Statistics as an Author
“میں تو اب تک درد سے آنکھیں میچے اماں کے کندھے سے چپکا رو رہا تھا - ہماری گلی میں تقریباََ سبھی گھر ہمارے قرابت داروں کے تھے۔”
“ابا کے گھر میں مگن ہوجانے سے اماں کی سوچوں کا ارتکاز بھی ٹوٹ گیا تھا اور یہ بدلاو¿ اس میں تبدیلیاں لانے لگا۔”
“اماں کا بس ایک ہی بھائی تھا مگر گھر کے بکھیڑوں میں الجھی اماں خوشی غمی کے موقع پر ہی اس سے ملتی تھی اور ادھر سے بھی ایسی کوئی چاہ نہ تھی ۔”