12% of the book — free to read

|
ملال زادی اسماء احمد |


داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ٢٠٢١ء
ISBN: 978-969-696-554-1

مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
٭
مدیران
فریال زہرا
نرمین سرھیو
__
سرورق کے جملہ حقوق انعم امیر کے نام محفوظ ہیں

ماں جی کے نام!
جنہوں نے کتابوں سے محبت کرنا سکھایا
اسماء احمد کا ناول اپنے نام کی طرح منفرد ہے۔ زندگی رائیگانی کے دکھ میں گندھے ملال کے لمحوں سے جڑی عبارت ہے۔ جسے انہوں نے پڑھا اور ہماری آنکھوں کے سپرد کیا۔
’’ملال زادی‘‘ کی کہانی، کرداروں اور منظر نگاری پر یا پھر مصنفہ کے اسلوب پر گفتگو کرنے سے قبل مجھے یہ اعتراف کرنے دیجئے کہ ’’ملال زادی‘‘ نے جہاں مجھے قراۃالعین حیدر اور جمیلہ ہاشمی کی یاد دلائی اور بانو قدسیہ کے قلم کی روانی کا عکس دکھایا، وہیں ایک حساس موضوع کی بے باکی نے عصمت چغتائی کی پوروں سے جیسے چٹکی کاٹی ہو اور منہ سے بے ساختہ ایک ’’سی‘‘ نکلی ہو۔
اسماء احمد سے میری ملاقات سارہ افضل کے توسط سے ہوئی جس کے لئے میں اس کی شکر گزار رہوں گی۔ اسماء کی شخصیت متاثر کن ہےمگر ناول پڑھنے سے قبل میں نہیں جانتی تھی کہ وہ روایتی رسمی سی لکھاری ہیں یا نہیں۔ ان کی سنجیدہ تحریر نے مجھے حیرت زدہ کیا۔
’’ملال زادی‘‘ کو پہلی مرتبہ میں نے محض ایک عام قاری کے طور پر پڑھا۔ دہرانے کی مجبوری اسے جذب کرنا تھا۔ تیسری مرتبہ بطور ناقد میں نے اسے کھنگالنے کی کوشش کی اور سوچا کہ کچھ ایسا آدھا ادھورا تلاش کر لوں گی کہ اس پر نکتہ چینی کر سکوں۔ اسماء احمد نے مجھے اس کا موقع ہی نہیں دیا۔ انہوں نے فطرت کے حسن کی کیا خوب تصویر کشی کی کہ منظر کا حصہ بننے میں دیر نہیں لگتی۔ مجھے حقیقتاً نہیں علم کہ انہوں نے اپنی ذات میں پوشیدہ مصورہ کو کب اور کیسے دریافت کیا۔ وہ کونسے محرکات تھے جنہوں نے انہیں ناول نگار بنایا۔
یہ محض ایک ناول نہیں بلکہ ایک سچی کہانی ہے۔ حقیقی کردار گلہان کو انہوں نے دیکھا اور جانا۔ سچ میں واقعی بڑی طاقت ہے جو ان کے دل پر اس حد تک اثر کر گیا کہ وہ لکھنے پر مجبور ہو گئیں۔
گلہان کو ہمارے محبوب ملک ترکی سے چنا۔ اسماء نے تاریخ کو عمدگی اور سہولت سے بیان کیا اور تمام ادوار سے ہمیں روشناس کرایا۔ انہوں نے مختلف تہذیبوں کے مطالعے اور مشاہدے کا موقع قارئین کو دیا۔ وقت اور حالات انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ ایک فیصلے کا اثر نسلوں تک انسان کو متاثر رکھتا ہے۔
’’ملال زادی‘‘ رشتوں کی شکست و ریخت کی زندہ داستان ہے۔ مرکزی کرداروں کے علاوہ ثانوی کرداروں پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ مصنفہ انسانی نفسیات سے بخوبی واقف ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز سے گزری ہیں۔ ان کی باریک بین نگاہ سے کوئی لمحہ بھی اوجھل نہیں ہونے پایا۔تدریس کے شعبے سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ ادب و فن سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ ان کی جمالیاتی حس ہر منظر میں جھلکتی ہے، اور رنگوں کے مختلف شیڈز کو وہ جس طرح کینوس پر بکھیرتی ہیں اسی مہارت سے وہ حرفوں سے جذبے کشید کرتی ہیں۔ آغاز سے اختتام تک حساس اور ذی شعور ادیب سانس لیتا دکھائی دیتا ہے۔
کم سنی سے بلوغت کی عمر اور ادھیڑ عمر کی کیفیات کا اظہار، اقرار و انکار سبھی کچھ دکھائی دیتا ہے۔ بظاہر وہ مرد کی نفسیات کو پہچانتی ہیں۔ کمال آفندی جیسے شاطر انسان کا کردار ہو یا گلہان کے پہلے شوہر عصمت کی سیرت کا تذکرہ یا پھر گلہان کے سسر کی اعلیٰ ظرفی و روشن خیالی۔ ہزاروں روپ ہمیں اس ایک ناول سے ملتے ہیں۔
پلاٹ، فیملی کے مسائل و معاملات کو بھی سہج سے استعمال کیاگیا۔ آفندی کی والدہ کا جانسو کو قبول نہ کرنا بھی سمجھ میں آتا ہے، پھر مورے اور جانسو کا اک دوجے کے قریب آنا۔ درد کی سانجھ نہیں تو کیا ہے۔ گلہان کا مورے سے حسد کا احساس بھی کس قدر فطری جذبہ ہے۔ سکول والوں کے احسن اقدام پر اک ان پڑھ خاتون کا خراجِ تحسین مثبت ردِعمل ہے۔
مورے کا گلہان کو کہنا، ”کیسی ماں ہے تُو، اپنی بچی کے لیے تو حوصلہ دکھانا تھا نا۔ کیا کر لیتا وہ۔زیادہ سے زیادہ تجھے چھوڑ دیتا۔۔۔اچھا ہوتا۔۔۔کم از کم وہ نہ ہوتا جو ہو رہا ہے۔“
مورے اور گلہان کے بیچ جو راز کی گرہیں کھلیں وہ سبھی لہو رنگ تھیں۔ مورے کا خود سے سوال بنتا تھا کہ اس کی تربیت میں کہاں کمی رہ گئی۔یہ اِک ماں کی بے بسی کی خاموش چیخ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔؟
اسماء کمالِ مہارت سے ہر اہم لمحے اور واقعے کو ناول میں زندہ کر گئیں۔ دورانِ حمل عورت جن کیفیات سے گزرتی ہے اس کو حرفوں میں ڈھالنا دشوار ہے، ’’یہاں بھی مصفہ کھری اتری ہیں‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ موت انسان کو خالق کے قریب کر دیتی ہے۔ اسماء نے جوان بیوہ کے کرب کو زبان دی۔
عدنان کا گلہان سے کہنا۔ اب تمہیں زندگی میں آگے بڑھنا چاہئے، ایک مثبت پیغام ہے۔ مورے کا کردار Folk Wisdom کی بہترین مثال ہے اور ثابت کرتا ہے کہ تجربے کا نعم البدل کوئی نہیں۔
’’ملال زادی‘‘ اِک سوالیہ نشان ہے۔ جو ہمیں فکر کے نئے زاویے دیتا ہے۔ گلہان جیسے کئی کردار ہمارے معاشرے میں چھپے ہوئے ہیں۔
اسماء احمد کی ’’ملال زادی‘‘ کے کردار آفندی کے منفی رویوں اور عمل کے پیچھے کی کہانی ادھوری ہے۔ اگر یہ ان کا پہلا ناول ہے تو یقیناً پڑھنے والوں کو ان کے روشن مستقبل سے امید ہے کہ وہ اگلا قدم بڑھائیں گی اور کسی اور ان کہے موضوع کو تحریر میں لائیں گی۔
عائشہ اسلم
جون ٢٠٢١ء
حرف و صوت کی نگری کی مسافر
تحصیل تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والی عائشہ نےستر سے اسی کی دہائی میں بطور اناؤنسر پاکستان ٹیلی وژن کی سکرین سجائی۔بعد ازاں کمپیئرنگ اور ڈرامہ آرٹسٹ کی حیثیت سے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ عبید اللہ بیگ جیسے استاد کے ہمراہ پاکستان ٹیلی ویژن، ہیڈ کوارٹر کے لیئے The Challenge کے نام سے ایک سیریز بھی تحریر کی۔ بین ا لا قوامی اعزازات حاصل کرنے والی دستاویزی فلم The Holy Shrines عائشہ اسلم کی تحریر کردہ ہے۔ انھوں نے پی ٹی وی لاہور مرکز کے لیئے اج دی کہانی میں " فیصلہ " کے نام سے ڈرامہ تحریر کیا۔
سرمد کھوسٹ کی سیریز میں ان کا تحریر کردہ انفرادی کھیل ’’ ماگھ کی چار تاریخ ‘‘ ان کی ہی پنجابی کہانی سے ماخوذ تھا جو جیو اینٹرٹینمنٹ کی سکرین کی زینت بنا۔ وہ جیو اینٹرٹینمنٹ میں بطور creative manager اپنے فرائض انجام دیتی رہیں۔
بطور صدا کارہ، عائشہ اسلم نے ریڈیو پاکستان لاہور سے ستر کی دہائی میں اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔ لائیو پروگرام ’’کرناں‘‘ اور صبحِ دم‘‘ کے ساتھ ساتھ فیچر اور ڈراموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
شاعری کی پہلی کتاب ’’ککھ تے کانے‘‘ 1983ء میں شائع ہوئی۔اردو ناولٹ اور کہانیوں پر مشتمل کتاب ’’سلاخوں سے ادھر‘‘ کو ناقدین نے بے حد سراہا۔ان کی دیگر تصانیف میں اردو نظموں کی کتاب ’’نیند کی سلوٹ‘‘، ناولٹ ’’گیلی سڑک‘‘ اور ’’لکھ سوال تے کلی میں‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ اپنی کتاب ’’ کوک ‘‘ میں انہوں نے پنجابی کے دو لہجوں، لاہوری اور اعوان کاری کو مہارت سے قلمبند کیا اور حساس موضوعات جراحی کی۔
عائشہ کی پنجابی شاعری کی کتاب ’’میں تیری ہوں مکی‘‘ 2007ء میں شائع ہوئی تو ناقدین نے اسے کسی خاتون کی جانب سے تصوف کے پہلے شعری مجموعے کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ عائشہ کی نظم و نثر کی نو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جبکہ اردو کہانیوں کی کتاب ’’جوالہ مکھی‘‘ اور پنجابی کہانیوں کی کتاب ’’کھاری‘‘ زیرِ اشاعت ہیں۔ ناولٹ ’’می رقصم‘‘ بھی جلد قارئین کے سامنے ہوگا۔
اٹھاون برس کی زندگی میں کئی بار ایسا موقع آیا جب بزبانِ قلم دل کی بات بیان کرنا نا گزیر محسوس ہوا ۔ بہت کچھ تحریر کیا لیکن اہلِ نظر کی خدمت میں پیش کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ باوجود یکہ کہ احباب نے ہمیشہ دل کھول کر پذیرائی کی لیکن کوئی ایسی راہ نہ ملی جس پر آگے بڑھا جا سکتا ۔ اب داستان پبلشرز کی صورت میں راستہ دکھائی دے رہا ہے تو عمر بھر کی حسرتوں نے خواہشات کا روپ دھار لیا ہے ۔ الفاظ و خیالات منہ زور ندی کی مانند صفحات پر بہہ نکلنے کو بے تاب ہیں ۔
زیرِ نظر ناول ایک حقیقی انسانی المیہ ہے ۔ حسبِ روایت کہانی کے کردار و مقامات کو بوجوہ تبدیل کردیا گیا ہے اور کہانی کے حسن کو برقرار رکھنے کی شعوری کوشش بھی کی گئی ہے لیکن حقیقی واردات سے رو گردانی نہیں کی گئی۔
آ خری صفحات کے بغور مطالعے کی استدعا ہے تاکہ قارئین اس کتاب کی مستند اہمیت کو جا ن لیں۔
آپ کی دعاؤں کی طالب
اسماء احمد
asma.ahmed63@gmail.com
مفتی صاحب اور بریگیڈیئر مجاہد پاشا کی کوششوں سے تمام سفری تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ٹکٹ بھی آچکے تھے۔صرف پروانۂ سفرکا انتظارتھا اس کے بعد سیٹیں کنفرم کروالی جاتیں۔کبھی کبھی ایک موہوم سی امید اس کے دل میں سراٹھاتی کہ شاید اسے اپنی جنت سے بے دخل نہ ہوناپڑے مگرپھروہ پورے عزم کے ساتھ اس کٹھن مرحلے سے گزرجانے کے لیے تیارہوجاتی۔
اس نے دوسوٹ کیسوں میں اپنا اور بچوں کاضروری سامان پیک کرلیاتھا۔اگرچہ کسی کابھی گھرکے سٹورروم کی طرف جانے کاکوئی امکان نہیں تھاپھربھی اس نے اس بات کاخاص خیال رکھاتھاکہ وہاں کی ترتیب بالکل نہ بدلے اسی لیے بازارسے نئے سوٹ کیس منگواکرمفتی صاحب کے گھرمیں ہی رکھوادئیے تھے۔روزانہ صرف ایساسامان منتقل کررہی تھی جس کوچھوڑناممکن نہیں تھا۔وہ تحائف جواس کے والدین نے اسے دئیے تھے یاکچھ ایسے پیاروں کی یاد گاریں جواب اس دنیامیں نہیں رہے تھے، اس کے لیے انہیں یہاں چھوڑ جاناممکن نہیں تھا۔کچھ ایساسامان بھی تھاجس سے اس کی جذباتی وابستگی تھی اوروہ ان سے دستبردارہونے کوتیارنہیں تھی۔تاہم اس کے معمولاتِ زندگی میں ذرّہ برابرفرق نہیں آیاتھا۔صبح سے لے کررات تک کی تمام ذمّہ داریاں وہ ہمیشہ کی طرح خوش اسلوبی سے نبھاتی رہتی اورکسی کوبھی اس کے اندرچھڑی جنگ کی خبربھی نہ ہوتی۔
فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔جمال بابانجانے کہاں تھے۔وہ خود ہی اٹھی اور ریسیور اٹھا لیا۔ دوسری طرف سے مخاطب نے اس یقین دہانی کے بعد کہ وہ اپنی مطلوبہ ہستی سے ہی گفتگوکررہے ہیں، اپناتعارف کروایا۔بریگیڈیئرمجاہد پاشاکافون تھا۔انہوں نے کہا،
”اِنَّ لِلّہِ واِنَّا الَیہِ رَاجِعُون، بیٹا آپ سفرکی تیاری کریں۔“
ان کے مختصرسے جملے نے اس کی زندگی کافیصلہ سنادیاتھا۔
اس نے کچھ کہے بغیرریسیوررکھ دیا اور وہیں زمین پربیٹھ گئی۔باوجود یکہ وہ اس لمحے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرجنگ کے لیے تیارتھی، اسے اس گھڑی کی سختی کا اندازہ نہیں تھا۔اس کی آنکھیں خشک تھیں کیوں کہ جسم سے اس کی روح کھینچی جاچکی تھی اورپتھرائی آنکھیں ہرجذبے سے عاری تھیں۔
گھربھرپرچھایاسنّاٹاپوری کائنات پرپھیل گیاتھا۔الجھے بال، ملگجے کپڑے اورمتورم آنکھیں لیے وہ بالکل ساکت بیٹھی تھی۔اس کاذہن بالکل خالی تھاحالانکہ گزری شب ایک لمحے کے لیے بھی یادوں نے اسے اکیلانہیں چھوڑاتھا۔اس کاگلاتکلیف کی شدت سے بند ہورہاتھا۔وہ پانی پیناچاہ رہی تھی مگرجسم ساتھ نہیں دے رہاتھاکہ اٹھ کرحلق ترکرلیتی۔اس نے اپنی مٹھیاں سختی سے بھینچ لیں اورخود کوگھسیٹ کرپاس پڑے صوفے سے ٹیک لگالی۔پوراوجود شدتِ ضبط سے لرز رہاتھا۔یوں محسوس ہورہاتھاجیسے وہ کسی بھی لمحے ہوش کھودے گی۔وہ ہارنانہیں چاہتی تھی اس لیے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کرخود کوسنبھالنے کی کوشش کررہی تھی۔اپنے آپ کوسمجھارہی تھی کہ یہ لمحہ بن بتائے تونہیں آیاتھا۔وہ تواس وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرسینہ سپرہونے کے لیے تیارتھی۔مگریہ بھی حقیقت تھی کہ اس گھڑی کی کڑواہٹ اس کی پوری زندگی کوزہرآلود کرگئی تھی لہٰذا اتنادرد توہوناہی تھا۔
باہربجلی بہت زورسے کڑکی اورایک خوفناک گرج کے ساتھ بادل برس پڑے، وہ جیسے ہوش میں آگئی۔سیدھاہوکربیٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اپنے بکھرے ہوئے بالوں کوجوڑے کی صورت لپیٹ لیا۔بے ترتیب کپڑوں کودرست کیا اور فرش پرپھیلی ٹانگوں کوسمیٹ کربازوؤں کے حلقے میں لے لیا۔وہ روناچاہ رہ تھی کہ شاید آنسوؤں کے ساتھ اس کے اندرکی گھٹن بھی باہرنکل جائے لیکن کوشش کے باوجود اس کی آنکھ سے ایک آنسوبھی نہ ٹپکا۔ہارکراس نے دکھتے ہوئے سرکوگھٹنوں پرٹکاکرآنکھیں بند کرلیں۔
وہ نجانے کتنی دیروہاں بیٹھی رہی۔مسز مفتی نے آکراسے اٹھنے کے لیے کہاتووہ خاموشی سے فرش پرسے اٹھ کرصوفے پرآبیٹھی۔دونوں عورتیں خاموش تھیں اوردونوں کی آنکھیں خشک تھیں مگردونوں کی روحیں بین کررہی تھیں۔اس کے لبوں پرلگے تالے اوراس کی صحراجیسی بنجرآنکھیں اب بھی اس کے اندراٹھتے جواربھاٹے کاپردہ رکھ رہی تھیں۔
بارش موسلادھاربرس رہی تھی۔وقفے وقفے سے بادل گرجنے کی آواز کمرے کاسکوت توڑ دیتی۔مسز مفتی نے اس کاسرد ہاتھ تھام رکھاتھا۔وہ باربارکچھ کہنے کے لیے منہ کھولتیں اوراس کے پتھریلے چہرے پرنظرڈال کرکچھ کہے بغیرہی سرجھکالیتیں۔ان کابوڑھا اور ناتواں وجودصرف اپنی موجودگی سے ہی اس کوسہارادے سکتاتھا۔الفاظ تواپنا اثرکھوچکے تھے۔اسے بھی اچھی طرح معلوم تھاکہ اب کہنے سننے کاوقت گزرچکاہے۔تقدیر، تدبیرپرغالب آچکی ہے اوروہ کھیلاجانے والاجوّاہارچکی ہے۔مگریہ بھی سچ تھاکہ اس ہارکے بعد اس کے اندرٹہراؤ سا آگیاتھا۔غالبا اس لیے کہ اب وہ گومگوکی کیفیت سے آزاد ہوگئی تھی۔راہ اورسمت کاتعین ہوگیاتھا۔تبھی تووہ زندگی کے رستے ناسورکواپنی ہتھیلی سے چھپائے بیٹھی تھی اورمنہ سے اُف تک نہیں کررہی تھی۔اس کے حوصلے نے درد بھرے لمحے کوشکست دے دی۔اس نے اٹھ کرپانی پیا اور ایک گلاس مسز مفتی کی طرف بھی بڑھادیا۔
سفرکی رازداری بے حد اہم تھی کیوں کہ اسے یہاں سے فرارہوناتھا۔وہ کسی قسم کاخطرہ مول نہیں لے سکتی تھی اسی لیے اس نے اورمفتی صاحب واہلیہ نے ہرممکن رازداری سے کام لیاتھا۔حالاں کہ سفرکی کوئی خاص تیاری نہیں تھی پھربھی اس نے اشد ضروری سامان کے علاوہ کچھ بھی گھرسے اٹھانے کے بجائے نئے سرے سے خرید لیاتھامبادایہ کہ کہیں بچیاں ہی اپنی کوئی ایسی شے نہ طلب کربیٹھیں جووہ پیک کرچکی ہو۔
ہرروز وہ ایک موہوم سی امید لے کرجاگتی اورہررات آنے والے دنوں کے خدشات میں لپٹ کرسونے کی کوشش کرتی۔دل کبھی دیوانہ وارسرپٹ دوڑنے لگتا تو کبھی یوں ٹہر ٹہر کر گھسٹنے لگتاکہ ہرلمحہ صدی برابرہوجاتا۔کبھی اس کادل چاہتاکہ اڑتے وقت کویہیں پرمنجمد کردے اورکبھی وقت کوپرلگ جانے کی دعاکرتی۔دن اوررات کی ہرہرساعت وہ کبھی ڈوبتی اورکبھی امید کی ناؤ پرسوارپارلگنے کی دعاکرتی۔آج اس کی ناؤ واقعی پارلگ گئی تھی۔لمحوں کی کھینچاتانی ختم ہوگئی تھی۔اذنِ سفر آچکا تھا اب صرف اس بات کا انتظار کرنا تھا کہ صیّاد شہرسے باہرجائے تووہ بھی زقند لگا کرقفس کی دیوارپارکرجائے۔ اللہ ربّ العزت نے یہ موقع بھی جلد فراہم کردیا اور ان کوکسی ضروری کام سے گاؤں جاناپڑگیا۔راتوں رات اگلی فلائٹ سے چارنشستیں کس طرح حاصل کی گئیں اسے معلوم نہیں۔اسے توبس یہ معلوم تھاکہ آج کی رات یہ گھر، یہ فضا اور زندگی کی یہ کہانی یہاں تمام ہوتی ہے۔
ایک بارپھراس شہرکی دلفریب فضا اس کے دل کے بوجھل پن کوکم نہیں کرسکی تھی۔
٭٭٭
اس نے ایک نظرپورٹرسے الجھتے آفندی پرڈالی اورجانسواورحاقان کاہاتھ تھام کرلاؤنج سے باہرآگئی۔کل سے اب تک گزرنے والی مختلف کیفیات نے اسے توڑ کررکھ دیاتھا۔ابھی صبح کانورپھیلانہیں تھالیکن شاہِ خاورکے جلوہ افروز ہونے کے آثاردکھائی دے رہے تھے۔مارچ کی ہلکی سی خنکی محسوس کرکے اس نے شال اپنے کندھوں پر پھیلالی۔ اسلام آباد کی خوب صورتی کاذکراس نے بار بار سنا تھا۔ اس شہرمیں بسنے کا خیال ہی اسے پُرجوش کردیتا تھا۔ دل میں انوکھے ارمان سراٹھانے لگتے تھے۔ بے شماراندیشے بھی اس کے ارمانوں کے رنگ پھیکے نہیں کرسکے تھے۔البتہ اپنے پیاروں کوچھوڑنے اورمہکتی یادوں بھری زندگی پیچھے دھکیل کریہاں تک آنے کے سفرنے اسے تھکادیاتھا۔ابھی اس کی بصارت میں گزرے دنوں کادھواں بھراتھا اسی لیے دل بوجھل تھا۔وہ کچھ دیرکے لیے سب کچھ بھول کرسکون سے سوجاناچاہتی تھی۔
بچے بھوک اورتھکن کی شکایت کررہے تھے لیکن آفندی صاحب کا اطمینان اس کا احساس کرنے سے قاصرتھا۔اللہ اللہ کرکے وہ پورٹرکے ہمراہ لاؤنج سے نمودارہوئے تواس نے بھی شکرکاکلمہ پڑھا اور بچوں کاہاتھ تھامے ان کے پیچھے چل دی۔
ڈرائیورنے آگے بڑھ کرسلام کیاتوآفندی نے سرکے اشارے سے جواب دے کراپنابریف کیس اس کے ہاتھ میں تھمادیا۔اس نے مؤدبانہ انداز میں گاڑی کادروازہ کھولا۔پورٹرسے سامان وصول کرکے ڈگی میں رکھا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کرکرگاڑی آگے بڑھادی۔گاڑی کے پرسکون اورحرارت بھرے ماحول میں بچے توبیٹھتے ہی سوگئے اوروہ بے دلی سے طلوع ہوتی صبح کی مدہم روشنی میں سپنوں کے شہرکانظارہ کرنے لگی۔
فیصل ایونیوکے دونوں اطراف پھیلے سبزے کاقرینہ شہرکی خوب صورتی کا تعارف تھا۔ انجانے میں وہ یادوں سے دامن چھڑاکربتدریج اسلام آباد کے سحرمیں گرفتارہوتی چلی گئی۔ چار سو پھیلی خاموشی میں صبح کا نور بڑی آہستگی سے اتررہاتھا۔سڑک پراکّادکّادکھائی دینے والی گاڑیاں لمحہ بھرکے لیے منظرکوزندہ کرتیں اورپھرزندگی ساکت تصویرمیں ڈھل جاتی۔گاڑی کے شیشے سے سرٹکائے وہ بڑے انہماک سے باہردیکھ رہی تھی۔درختوں، سبزے اورپھولوں کے تختوں سے پھسلتی ہوئی اس کی نظرمشرق سے بادلوں کی سنہری ٹکڑی کے عقب سے جھانکتی ہوئی نارنجی روشنی پرٹک گئی۔سرمئی بادلوں کے کناروں نے سنہری حاشیے کاروپ دھارلیاتھا اور ان بادلوں کی اوٹ سے پھوٹتی کرنیں بہت ہی بھلی لگ رہی تھیں۔پرندوں نے بھی اپنے آشیانوں کوچھوڑ دیاتھا اور غول کی صورت میں آسمان کی نیلاہٹ میں رنگ بھررہے تھے۔اس کی حسِ جمال کے لیے یہ نظارہ اسے ہرخدشے سے بے نیاز کرنے کے لیے کافی تھا۔
اسے معلوم ہی نہ ہوا اور گاڑی سبک رفتاری سے فاصلہ طے کرتی ہوئی ایف ایٹ کے ایک شاندارگھرکے گیٹ میں داخل ہوگئی۔وہ اپنی دنیامیں واپس آگئی۔مکان پرپہلی نظرپڑتے ہی اس کے چہرے پرحیرت اورستائش کاملاجلاتاثرپھیل گیاتھا۔ڈرائیووے کے بائیں جانب سرسبز لان میں اگرچہ چند قدآوردرختوں کے سوا اور کچھ نہ تھامگراس کے باوجودگھنی شاخوں سے جھانکتی صبح کی نرم کرنوں نے ماحول کوسنہراکردیاتھا۔رات کی شبنم میں بھیگی گھاس پرکہیں کہیں پڑتی دھوپ کانظارہ اس کے دل کوبھاگیاتھا۔دل پرچھائی اداسی ذراسی دھل گئی تھی۔املتاس کے چھتناوردرخت کے سائے تلے بچھی چارپائی پردراز ادھیڑ شخص گاڑی کوگیٹ سے داخل ہوتادیکھ کرہڑبڑاکرکھڑاہوگیاتھا۔اس نے دایاں ہاتھ ماتھے تک اٹھاکربلند آواز میں سلام کیا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے تہبندکوسیدھاکرتے ہوئے، سلیپرپاؤں میں پہنتے ہوئے بدحواسی سے ان کی طرف بڑھا۔
اسلام آباد کی زمین پرڈرائیورکے بعد یہ دوسراشخص تھاجس سے اس کی ملاقات ہوئی تھی اوردونوں کے حد درجہ مؤدبانہ انداز کے جواب میں اپنے شوہرکابے نیاز انداز اس کے لیے بالکل اجنبی تھاکیوں کہ اس نے انہیں ہمیشہ نہایت خلیق اورخوش اخلاق پایاتھا۔آفندی سرکے اشارے سے جواب دیتے ہوئے مرکزی دروازہ چھوڑ کرلمبے سے ڈرائیووے کوعبورکرتے ہوئے بائیں جانب واقع عقبی دروازے سے گھرمیں داخل ہوئے تووہ بھی بچوں کوہانکتی ہوئی اندرچلی آئی۔یہ غالباًلاؤنج تھا۔گھرکے بیرونی حصّے کی شان وشوکت کے برعکس اندرونی صورتِ حال اس کی طبع نازک پرگراں گزری۔
وسیع وعریض لاؤنج میں پرانے وقتوں کا ایک صوفہ اوراس کے سامنے دھراٹی۔وی کمرے کی وسعت سے ہرگز انصاف نہیں کررہاتھا۔دیواروں پرآویزاں فریم بے ترتیبی کاشکارتھے اورپورے ماحول کی بد ہیتی میں اضافہ کررہے تھے۔آفندی صاحب اسے پہلے ہی آگاہ کرچکے تھے کہ اسے گھرمیں اپنی حسِ جمال کواستعمال کرنے کاخوب موقع ملے گا۔یہ خیال آتے ہی اس کے ہونٹوں پرمسکراہٹ پھیل گئی۔وہ مسکراکرآگے بڑھی اورسامنے سے آنے والی بزرگ مگرتواناخاتون کے گلے لگ گئی۔
سسرال والوں سے غائبانہ تعارف توتھالیکن ان سے ملاقات کاموقع اب آیاتھا۔آفندی کی والدہ سیدھی سادی دیہاتی سی خاتون تھیں۔سفید بالوں میں کہیں کہیں نارنجی رنگ جھلک رہاتھا، غالباًکسی زمانے میں وہ بالوں کومہندی سے رنگتی ہوں گی۔ان کی قدآوراورمضبوط کاٹھی متاثرکن تھی۔چمک دارگلابی چہرے پرگہری نسواری سرخ پھولوں والی چادربڑی بھلی لگ رہی تھی۔آنکھوں میں سیاہی مائل فیروزی رنگ ہلکورے لے رہاتھا۔آفندی خون ان کی شخصیت میں جھلک رہاتھا۔انہوں نے ذراسی پھیلی ناک میں چنے کی دال برابرطلائی لونگ پہن رکھی تھی۔کانوں میں بھی سونے کے بُندے تھے البتہ ہاتھوں میں سبز رنگ کی کانچ کی چوڑیاں پھنسی ہوئی تھیں۔آنکھوں میں متانت وذہانت اورلہجے میں تحکمانہ رنگ نمایاں تھا۔اس نے بڑی شدت سے محسوس کیاکہ آفندی بالکل اپنی ماں کاعکس ہیں۔وہی متاثرکن شخصیت، اپنی ذہانت سے لوگوں کوپچھاڑ دینے والے، سنجیدگی سے معاملاتِ زندگی پرنظررکھنے والے اورویساہی تحکمانہ لہجہ جواکثراوقات اس کے الفاظ کوبھی اس کے حلق میں گھونٹ کررکھ دیتاتھا۔مورے کے انداز میں نرمی تھی مگرپھربھی وہ ان کے سامنے دبک سی گئی تھی۔
انہوں نے بہوکوبڑی گرم جوشی سے گلے لگایا اور سرپرمحبت بھراہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے قریب بٹھالیا۔لیکن ان کی بچوں سے سرد مہری اس کی نظرسے پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی۔اس نے شاکی نظروں سے آفندی کی طرف دیکھامگروہ بڑی مہارت سے نظریں چراگئے۔بچے نیند سے جاگے تھے اورابھی بھی پوری طرح ہشاش بشاش نہیں تھے۔ناشتے کی میز لوازمات سے بھری ہوئی تھی مگراس نے ایک سلائس پرہلکاسامکھن لگایا اور چائے کاکپ اپنے سامنے رکھ لیا۔بچوں کوپراٹھاپسندآگیاتھالہٰذاوہ شوق سے کھارہے تھے۔آفندی صاحب البتہ ناشتے سے پوری طرح انصاف کررہے تھے اوراپنی والدہ کے سوالات کے جوابات بھی تواترسے دے رہے تھے۔ناشتے سے فارغ ہوکراس نے اجازت طلب نظروں سے میاں کودیکھاتووہ اسے کمرہ دکھانے اٹھ گئے۔سفرکی تکان اورمختلف کیفیات نے سوچنے کی مہلت بھی نہ دی اورتکیے پرسررکھتے ہی وہ دنیاومافیہاسے بے خبرہوگئی۔
٭٭٭
منیساکی نکھری اورمعطرہوائیں اسے دیوانہ کیے رکھتی تھیں۔ذراذراسی بات پرقلقل کرتی ادِھراُدھرتھرکتی پھرتی تھی۔رونا اور منہ بسورناتواس نے سیکھاہی نہ تھا۔بابا اس کی ہنسی کے جھرنوں سے نہال رہتے توانّادل ہی دل میں اس کے لیے دعائیں کرتی رہتیں۔توشانی خاندان کی یہ نرم ونازک کلی گھربھرکی رونق تھی۔عیسیٰ توشانی منیساکی میٹروپولیٹن میونسپلٹی کے اہم رکن تھے۔گوکہ ان کاسیاست اورضلعی حکومت سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھالیکن مئیرکی نظرمیں ان کی رائے، ایک معزز اورصاحب ِ نظرشخصیت کے حوالے سے ہمیشہ اہم سمجھی جاتی تھی۔پیشے کے اعتبارسے وہ زیتون اورتمباکوکے بیوپاری تھے۔
منیسامغربی ترکی میں کوہ سیپیلیس کے دامن میں واقع دریائے گیدز کی زرخیز وادی میں قدرت کا ایک حسین تحفہ ہے۔قدیم دورمیں یہ علاقہ میگنیسیاسپلم کہلاتاتھا۔خیال کیاجاتاہے کہ میگنیٹس اس سرزمین کے اوّلین باشندے تھے جوبارہویں صدی قبلِ مسیح یہاں آکرآباد ہوئے تھے۔اس وقت سے یہ علاقہ تہذیب وتمدن اورتجارتی سرگرمیوں کامرکز تھا۔تیرھویں صدی کے اوائل میں ساروحان نامی ترکمانی قبیلے کے سردارنے میگنیسیاکوفتح کرکے اس کانام منیسارکھا اور اس علاقے کواپنی انتظامی سرگرمیوں کامحوربنالیا۔اسی صدی کے آخرمیں نورانی خلیفہ بایزیدنے اس علاقے کوفتح کرلیا۔تیمورلنگ نے 1402ءمیں اس علاقے کوفتح کیالیکن محض آٹھ سال بعد ہی اسے دوبارہ سلطنتِ نورانیہ میں شامل کرلیاگیا۔انیسویں صدی کے آغاز میں اسے آئیگنرریجن میں انتظامی طورپرصوبے کادرجہ دے دیاگیا۔یہ خطّہ دریائے گیدز کے زرخیز میدانوں سے گھراہوہے با الخصوص منیساکاشمالی علاقہ انگورکی کاشت کے لیے نہایت موزوں تصوّرکیاجاتاہے۔اس کے علاوہ زیتون، تمباکو، تل اورکپاس کے کاشت کاربھی منیساکی سرزمین میں خاص دل چسپی رکھتے ہیں۔یہ سرزمین معدنی اعتبارسے بھی اہم سمجھی جاتی تھی یہی وجہ تھی کہ توشانی خاندان کی ایک شاخ اٹھارویں صدی میں یہاں آکرآباد ہوگئی اورکھیتی باڑی کواپناپیشہ بنالیا۔
عیسیٰ توشانی منیساکے مضافات آخیسارکے علاقے میں زیتون اورتمباکوکی کاشت کرتے تھے۔اپنی تمباکوکی پیداوارکابڑاحصّہ وہ ایران اوربحرین کے راستے بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کردیتے تھے جب کہ باقی ماندہ تمباکواورزیتون مقامی صنعتوں کوسپلائی کردیتے۔مالی اعتبارسے خوشحال ہونے کے باعث، سماجی فلاح وبہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصّہ لیتے تھے اورمعاشرے میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔وہ دیانت داری سے رزقِ حلال کمانے پریقین رکھتے تھے۔انہوں نے کبھی اپنے تعلقات سے تجارتی معاملات میں فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی، غالبا اسی لیے ان کی باکردارحیثیت مستند تھی۔
گلہان ان کی اکلوتی اولاد تھی۔ان کے آنگن کی رونق اوران کی آنکھوں کانور۔سترہ برس کی عمرمیں بھی انہیں چھوٹی سی بچی ہی لگتی تھی۔چہرے کی معصومیت نے اس کے عام سے چہرے کوخوبصورت بنادیاتھا۔گلابی رنگت اس نے ماں سے پائی تھی اورگہری سرمئی آنکھیں باپ کاتحفہ تھیں۔اسے لمبے بالوں کابہت شوق تھامگرہرٹوٹکا ازمالینے کے باوجود بال کندھوں سے نیچے آنے پرآمادہ نہیں تھے۔وہ اکثراپنے کتھئی بالوں کوبے ترتیبی سے کھلاچھوڑ دیتی مگرجب کبھی ماں کے ہتھے چڑھ جاتی اوروہ اس کے بے ترتیب بالوں کوسنوارکرپونی کی شکل دے دیتیں تووہ اپنی عمرسے دوچاربرس اورپیچھے چلی جاتی۔دائیں گال پرپڑنے والاگڑھابال سمٹتے ہی جگمگانے لگتاتوماں بے اختیارنظروں ہی نظروں میں واری صدقے ہونے لگتی۔اپنی اولاد توسب کوہی پیاری لگتی ہے لیکن گلہان اپنی خوش مزاجی اورملنسارطبیعت کی بدولت سب کے ہی دلوں میں گھربنالیتی تھی۔اس کاتھرکنا، چہکنا، اس کے قہقہے، اس کے انوکھے لاڈ سب ہی کولبھاتے تھے۔جب بھی اسے اپنی کوئی ضد منوانی ہوتی تواس کے انداز ہی بدل جاتے تھے۔
باباکے کندھے سے لٹک کرجب وہ سرگوشیاں کرتی توعیسیٰ اورفاطمہ دونوں ہی بن کہے جان جاتے کہ کوئی فرمائش آنے والی ہے۔پھروہ دونوں انجان بننے کی اداکاری کرتے اوراس کی سرگوشیاں آہستہ آہستہ بلند ہوتی جاتیں۔وہ بھی ماں باپ کی شرارت سمجھ جاتی۔یہ کھیل اس وقت تک جاری رہتاجب تک فریقین میں سے کوئی ایک ہارنہیں مان لیتا۔عام طورپریہ ہارعیسیٰ کے حصّے میں آتی جواپنی لاڈلی کوزیادہ دیرتک ستانہیں پاتے۔گلہان کی معصوم فرمائشیں پوری کرنا ان کے دل کی خوشی ہوتی تھی۔اپنی بات منواکرجب وہ اپنے سرکوپیچھے کی طرف جھٹک کرناز سے گردن کواکڑالیتی اوراپنی گلابی زبان کودائیں طرف کے دانتوں میں دباکرمسکراتی توزندگی میں رنگ ہی رنگ بکھرجاتے۔
گھرمیں داخل ہونے سے پہلے ہی ان کومعلوم ہوگیاتھاکہ آج پھرگلہان کی سہیلیاں آئی ہوئی ہیں کیوں کہ مترنم قلقاریوں کی آوازیں جمال ارگن روڈ کے سرے سے ہی سنائی دے رہی تھیں۔وہ وہیں سے مڑ گئے، اب بشریٰ کیفے کے کباب کے بغیرگھرجاناممکن نہیں تھا۔وہ گلہان کی آنکھوں اورسریلے قہقہوں کے متوالے تھے۔ایک گھنٹے بعد جب وہ گھرمیں داخل ہوئے تووہ حسبِ معمول ان کے کندھے سے جھول گئی اوراتراکربولی :
”مجھے پتاہے آپ میری سہیلیوں کے لیے ضرورکباب لائے ہوں گے۔“
مسکراکرلفافہ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور ماتھاچوم کراپنے کمرے میں چلے گئے۔خلافِ معمول بیوی کوسامنے نہ پاکرفکرمند سے ہوگئے۔
فاطمہ ان کے لیے محض رفیقِ حیات ہی نہیں تھیں بلکہ مزاج شناس دوست بھی تھیں۔ان کے مزاج کاہررنگ پہچانتی تھی۔فاطمہ کی سنگت نے ان کوزندگی کے ہررشتے کوبرتناسکھایاتھا۔بیوی کوڈھونڈتے ہوئے وہ پچھلی بالکونی کی طرف آئے تواسے کسی گہری سوچ میں غرق پایا۔کندھے پرہاتھ رکھاتووہ چونک کرمڑیں اوران کوسامنے پاکرسٹپٹاسی گئیں۔
”کیاہوا؟طبیعت توٹھیک ہے؟“
وہ واقعی فکرمند تھے۔
٭٭٭
اس کی آنکھ جانسوآواز پرکھلی۔وہ کمرے میں پھیلتے ہوئے اند ھیرے سے خوفزدہ تھی۔چند لمحوں کے لیے وہ خود بھی حقیقت کی دنیامیں واپس نہ آسکی، اورجب باہرسے آنے والی انجانی آوازوں کوپہچان پائی تودل پھرسے بوجھل ہوگیا۔حاقان اب تک بے خبرسورہاتھا۔وہ جانسوکاہاتھ تھامے کمرے سے باہرنکل آئی۔
شام ڈھل رہی تھی۔اس کاکمرہ بالائی منزل پرتھا۔کمرے کادروازہ لاؤنج میں کھلتاتھا۔نچلے لاؤنج کی نسبت اس کاحال قدرے بہترتھا۔غالبا اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ گھرکایہ حصہ آفندی صاحب کے ذاتی تصرف میں رہتاتھا۔بالائی منزل چاربیڈ رومز پرمشتمل تھی جن میں سے تین کے داخلی دروازے براہِ راست لاؤنج میں کھلتے تھے لیکن آفندی کاکمرہ ایک چھوٹی سی راہداری سے گزرکرآتاتھا اور ان کے کمرے اورباتھ روم کے دروازے پچھلی جانب ایک خوب صورت کشادہ بالکونی میں کھلتے تھے۔البتہ بالکونی میں رکھے گملے مکینوں کی لاپرواہی کی منہ بولتی داستان تھے۔باہرکی جانب بھی ایک بڑاساٹیرس تھاجس پرچند زنگ آلود آہنی کرسیاں، ایک میز اورایک بان کی چارپائی پڑی تھی۔شام کے دھندلکے میں لان میں ایستادہ درختوں کی ٹیرس پرجھکی شاخیں ماحول کی اداسی بڑھارہی تھیں۔
وہ حال میں واپس لوٹ آئی۔جانسواس کاہاتھ پکڑے ٹھنک رہی تھی۔سیڑھیاں اترکرنیچے آئی توسامنے ہی صوفے پرساس بیٹھی دکھائی دیں، ان کے سامنے فرش پربیٹھی ایک عورت ساگ کاٹ رہی تھی۔اسے آتادیکھ کروہ مسکرائیں اورکچھ کہاجسے وہ سمجھ نہ پائی۔
”زبانِ یارمن ترکی ومن ترکی نمی دانم“کے مصداق وہ صرف مسکراکررہ گئی۔آفندی نجانے کہاں تھے۔اشارے سے پانی مانگاتوانہوں نے کسی کوپکارا۔ایک ملازمہ پانی کاگلاس لیے نمودارہوئی اورفوراًغائب بھی ہوگئی۔جانسوان کی طرف کن انکھیوں دیکھ رہی تھی۔اس نے نرمی سے ان کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا:
You have read 12% of ملال زادی - Malaal Zadi. The full e-book picks up right where this stopped.