یہ نعرے نہیں۔ یہ اُن کرداروں کی باتیں ہیں جو بغیر کسی ضمانت کے چلتے رہے — اور یہی وہ حوصلہ ہے جو ایک اصل ہفتے کا سامنا کر سکتا ہے۔
Read these in English 89 motivation quotes
“اگر تم صبح سویرے اٹھو اور سورج کی پہلی کرن جو زمین پر پڑتی ہے اس کے ساتھ دوڑنا شروع کردو تو اس پل کے پیچھے ایک خفیہ دروازہ ہے، جو اس دنیا سے الگ دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔”

“جیز، زوبی کا چہرہ زینب حسین جیسا کرنے میں جُت گیا اور ہر شے کی پروا کیئے بغیر دن رات زینب حسین کو اپنے طور پر نئی زندگی دینے کی کوششوں میں تھا۔”

“آج پوتے کے چہرے پر پھیلے سکون کو دیکھنے کے لیے ان کی بےچین نگائیں بار بار گیٹ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔”

“میری وجہ سے تمہیں جو تکالیف اٹھانی پڑیں ,تم نے جو اذیتیں سہیں, میں ان سب باتوں کے لئے, دل سے معافی چاہتا ہوں!”

“جو انسان زندگی میں خود آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنےکام کو وقت پر انجام دیتا ہے وہی دولت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔”

“پہلے سمیسٹر میں ہی اس نے خود سے عہد کرلیا تھاکہ اب کوئی ایک دوست نہیں بنائےگی، بلکہ کوشش کرے گی کہ سب کے ساتھ اچھے طریقے سے رہے۔”

“سالہا سال سے مرد نے یمن کی طرح خاموش جهاد کر رہے ہیں میں محنت کی اور جذبے کے ساتھ وہ خاص نمبر شائع کرتے رہے ہیں ۔”

“رات کے تقریباً ۲ بجے اُن کی آنکھ کھلی تو وہ اتنے ترو تازہ ہو کر اٹھے کہ انھیں گمان گزرا کہ وہ مر چکے ہیں اور یہ ان کی روح ہے جو بستر پر بیٹھی ہے۔”

“جب انسان اپنے پیروں کی زمین چھوڑکر آسمان کو پانے کی کوشش کرتا ہے، تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب آسمان انسان کو منہ کے بل گراتا ہے اور زمین واپس قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔”

“میں اکثرمحبت کے مارےکہہ اٹھتا : '' آپ اپنے سٹودنٹس کے سامنے تو انگلش بولتے ہیں، لیکن میرے انسسٹ کرنے پر بھی آپ میرے ساتھ انگلش نہیں بولتے۔”

“شنایہ آنکھیں موندے سونے کی کوشش کر رہی تھی، ڈرائیور گاڑی چلانے میں مصروف تھا اور رخسار خالی آنکھوں سے اب بھی آسمان کو دیکھے جا رہی تھی۔”

“اس کٹیا سے ھر شام اٹھتی دھویں کی لکیر کو میں نے زندگی کا استعارہ کب سمجھنا شروع کیا، شاید مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ہے۔”

“ابھی میں راستے میں ہی تھا کی ٹریفک جام ہوگئی، ٹریفک کہ اژدہام میں گاڑیوں کے شدید شور سے اکتا کر میں نے بھیڑ میں ہی گاڑی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔”

“کبھی کبھار دیوہیکل سایہ میرے دل کے وال بند کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی میری آنکھوں کے ڈیم سے بچایا ہوا پانی بھی کھینچ لیتا ہے۔”

“میں اپنی اولاد کو سکھی رکھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر ہوں تو عاجز سا انسان...میں تقدیر کے لکھے کو بدل نہیں سکتا۔”

“تقویٰ کو اب لگنے لگا تھا کہ اللہ اس کو اولاد اس لۓ نہیں دے رہا کیونکہ وہ غیر اللہ کے آگے سوالی بننے کا گناہ کر چکی ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Six Murders in Seattle is a marvel of these superbly talented writers. In this book, they narrate a full suspense story about six back-to-back murders in a city called Seattle, and when the crime department could not able to handle this same pattern of murders, they asked for the officer, whose reputation is worse than criminals, as a last try to solve this mystery of murders.
Explore Sana Ahmed Alvi’s writing journey, inspirations, and the mystery behind The Night She Drowned in this engaging author interview.
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے
Aysha Khalid is a Turkish poet, she does not believe in the boundaries of language to express herself or her imagination. That’s the reason, she has chosen a Pakistani publishing company ‘Daastan’ to publish her collection of poems.
Nidal Hammad’s The Last Minute, a football novel and story of passion, pressure, and perseverance published by Daastan
”یہ ڈھاکہ کالج کے قریب ایک پُرہجوم بازار تھا۔یہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں دستیاب تھیں۔یہ ہر طبقے کے لوگوں کی خریداری کے لیے سب سے مشہورجگہ تھی۔ایک بہت اچھی مارکیٹ تھی جہاں زیورات، بیگ، کپڑے، اسٹیشنری کی اشیاء، بیڈ شیٹس اور تکیے وغیرہ ملتے تھے۔“
I'll meet you there is a poetic book that leaves its readers stunned, to say the least. It was published fairly recently and beautifies the world around us. The book's theme caters to multiple topics and since it is set in modern times and written as poetry, it leaves a lot to be imagined by the readers. The readers are creatively transported into an entirely different world that is beyond the human imagination.
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]