پاکستانی مزاح عموماً خشک ہوتا ہے اور عموماً کسی سنجیدہ بات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہاں لطیفے نہیں — یہ وہ باتیں ہیں جو لوگ شکایت کرنے کے بجائے کہہ دیتے ہیں۔
“انسانوں کو مجھ سے یہ بھی شکایت ہے کہ جب میں ان کے گھروں کی چھت پر بیٹھ کرنغمہ سرا ہوتاہوں تو ان کے گھروں میں مہمانوں کی مصیبت نازل ہوجاتی ہے۔”

“نثر کی محفل میں ان کی شرکت یقینی ہوتی ہے تاہم مشاعرے میں غزل یا مزاحیہ نظم سنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔”

“اب وہ سوچ رہا تھا کہ آپا کو سچ میں اس سے کتنی محبت ہے،کہ اس کے لیے دیر تک کالج کے گیٹ پر کھڑی رہیں اور اس کے نظروں سے اوجھل ہو جانے تک مسکرا کر الوداع کہتی رہیں۔”

“مسکراتے ہوئے ماہِ نو نے آنکھیں بند کر لیں جس پر ہماء نے اسے دوبارہ ہلایا اور یقین دلایا کہ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔”

“مختلف اٹیندنٹس ایک دوسرے کو جانچتی نظروں سے " تعلقات کیسے رکھنے ہیں؟" کے طور پر پرکھ رہے ہیں اور میں مسکرا کردوبارہ اپنے نوٹس میں گم ہوگئی۔”

“جنّت، سلمان کے خیال کے لطف و سرور اور فراق کے خوف اور وسوسوں کے درمیان ہچکولے کھا رہی تھی کہ اسی اثناء میں سلمان کا مسکراتا چہرہ گلی والے دروازے سے نمودار ہوتا نظر آیا۔”

“"صرف پانچ ملاقاتوں کی بُنیاد پر تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ ہم ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں؟"میں مُسرت کے ساتھ اندر ہی اندر مسکرایا۔”

“ایک لمحے کو دل چاہا کہ پاس بلا کرخوشی کے مارے گلابی ہوتے اس کے رخسار چوم لوں، لیکن میں باز رہا اور مسکراتے ہوئے اس کو اجازت دینے پر ہی اکتفا کیا۔”

“'' اس کے بعد دونوں کی ہلکی سی ہنسی سنائی دی اور ساتھ ہی ایک بار پھر سیٹھ کی آوا زسنائی دی ''تم اس خوبصورت سفید ساڑھی میں انتہائی دلکش اور حسین لگ رہی ہو۔”

“کتنی چاہ تھی کہ تمہارے کاندھے پر سر رکھ کر ڈھیر ساری باتیں کروں اور آج کے دن یعنی تمھاری سالگرہ پر دنیا جہاں کی خوشیاں تمہارے قدموں میں لا رکھوں کہ تمھاری یہ زندگی بخش مسکراہٹ ہمیشہ سلامت رہے۔”

“سب لوگوں نے جس طرح ہمارے ڈرامے اور سیٹ کو سراہا تھا، وہ خوشی آج بھی دل و ذہن کے کسی کونے میں پڑی مسکراتی ہے اور زندگی میں کئی دفعہ تقویت کا باعث بنی ہے۔”

“مجھے یاد ہے یہ لکڑی کا بھاری دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا ، اور اِس گھر کے مکین ہر آنے والے کو کھلے دِل اور مسکراہٹوں سے خوش آمدید کہتے تھے .”

“جیسے ہی میں کیبن نمبر ۸ کے قریب پہنچا تو دروازے پر لکھا ۸ کا ہندسہ دیکھ کر میں مسکرایا اور اطمینان کے ساتھ دروازہ کھولا۔”

“"احسان فراموش باقیوں سے تو بہتر ہی ہیں سرعام عزتیں پامال نہیں کرتے اپنی" وہ طنزیہ مسکرائی اور ساتھ ہی بیگ گھسیٹے گھر کی دہلیز پار کر گئی.”

“اسے ڈر تھا کے ایسے اس کی اور اسکی بیٹی کی بہت بدنامی گی اور پھر شازیہ کی زندگی ایک مذاق بن کر رہ جایے گی.”

Our authors, in their own words and in the press.
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]
زیرِ نظر کتاب ماہی شاہین ؔ کاشعری مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنی خوبصورت شاعری کو پیش کیا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک تسلسل اور خوبصورتی دکھائی دیتی ہےجو پڑھنے والے بھلی معلوم ہے۔جیسے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں
Samar Malik, opens up about her writing journey, the emotions behind her latest poetry collection, and her experience publishing with Daastan.
Six Murders in Seattle is a marvel of these superbly talented writers. In this book, they narrate a full suspense story about six back-to-back murders in a city called Seattle, and when the crime department could not able to handle this same pattern of murders, they asked for the officer, whose reputation is worse than criminals, as a last try to solve this mystery of murders.
LAHORE: The launching ceremony of a book titled "From Partition to Pioneer”, "focusing on the life and services of...
Discover Wajahat Ali’s "Finding My Roots," an inspiring biography that captures the strength of a mother’s love and sacrifices.
ناصر خان نے اس کتاب میں عمدہ اشعار بھی قلم بند کیے ہیں۔ ناصر خان کے اشعار میں تعلیم کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے
It is a giant pack full of friendships, thrillers, science, unique ideas, and more. The novel is written beautifully and in well-knitted form, you will get easily attracted to it even at the beginning of the story.
سلمان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے۔ انھوں نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور ان کے ہر شعر میں شاعری سے محبت جھلکتی ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ کمال کی منظرنگاری پیش کرنے کا بھی ہنر جانتے ہیں