ان کتابوں میں دوستی عملی ہے — کون آیا، کون رکا، پیسے ختم ہونے کے بعد کون باقی رہا۔ کہی کم گئی ہے، دکھائی زیادہ گئی ہے۔
“(اپنی شاعری کا یہ حصہ میں اپنے تمام سیّد گھرانے کے اساتذہ، رشتہ دار، دوست، شاگرد اور خصوصاً مسٹر بزنس مین کے نام کرتا ہوں)”

“ایک بے حد اچھی اور بہت پیاری دوست کی طرف سے محبت کی یہ چھوٹی سی نشانی پا کر جو خوشی ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔”

“انکا جذبہ دیکھ کر محلے کے بچے بھی انکے ساتھ ہاتھ بٹانے لگے .محسن ایک جگاکھڑا ہو کر یہ سب دیکھ رہا تھا .اسکو دل ہی دل میں بہت خوشی ہورہی تھی .”

“ایک تو شمالی علاقہ جات کی ساری وادیاں انتہائی حسین اوپر سے ہر وادی کا ذاتی پالتو دریا ان وادیوں کے حسن کو چار چاند تو لگا ہی دیتا ہے ساتھ میں سیّاحوں کی بھی چاندی ہو جاتی ہے ۔”

“میری بیداری تک تیرا ساتھ اچھا ہےمجھے نیند میں رہنے دو، سب اچھا ہےزندگی تکمیل پذیر بس تیری آغوش میںخوف و فکر نہیں خرؔم!”

“اِرم اپنے خاوند کے ساتھ جا چکی تھی اور ماں باپ اپنے رشتہ داروں اور محلے والوں سے بے حد شرمندگی کے مارے ملنے جلنے سے قاصر ہو چکے تھے۔”

“'اگر میری بچیوں کے ساتھ بھی ایسا ہو گیا تو کیا ہو گا؟ کیا میں ان کی حفاظت کر پاؤں گی؟ کیا میں ان کو تحفظ دے سکوں گی؟' اس کے ذہن میں ہر وقت خوف کےسائے منڈلاتے۔”

“جوانی میں ہمارے بالوں کی جڑوں میں موجود اس کیمیکل کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ پھر وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی چلی جاتی ہے۔”

“زندگی کا کیا بھروسہ کہ صبح تک کیا سے کیا ہو جائے؟''ہم دونوں نے ایک قہقہ لگایا اور سیٹھ مجیب کیبن سے باہر چلا گیا۔”

“لاہور جانے سے ایک دن پہلے مجھے میرے والد کے بہت قریبی دوست ڈاکٹر سلطان جو اس علاقے کے سرکاری ہسپتال کے انچارج تھے نے اپنے گھر بلایا۔”

“ٹھنڈی ہواؤں اور گہرے کالے بادلوں کے ساتھ وقفے وقفے کی بارش نے نہ صرف موسم خوشگوار کر دیا بلکہ ہر چیز کا مزہ دوبالا کر دیا۔”

“کوئی بہن کھو کر آیا تھا کسی نے اپنی ماں کو اپنی نظروں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا تھا، مگر ہر مرنے والے کی داستان کے ساتھ ایک امید کا نام جڑا تھا۔”

“"صرف پانچ ملاقاتوں کی بُنیاد پر تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ ہم ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں؟"میں مُسرت کے ساتھ اندر ہی اندر مسکرایا۔”

“اگلے سال بڑی کوششوں کے بعد ایم اے او کالج لاہور میں سیکنڈ شیفٹ میں داخلہ ملا اور ساتھ ساتھ نوید مجید اکیڈمی بھی جوائن کی۔”

“آج بھی فاریہ کے گھر پر نہ ہونے کی وجہ سے شیری کا دل نہیں لگ رہا تھا اسی لئے وہ باہر لان کی طرف نکل گیا جہاں عاصم اپنے دوستوں کے ساتھ موجود تھا۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Samar Malik, opens up about her writing journey, the emotions behind her latest poetry collection, and her experience publishing with Daastan.
Nidal Hammad’s The Last Minute, a football novel and story of passion, pressure, and perseverance published by Daastan
Love Recycled is a romance novel that follows Ali as he navigates his way through university and then adulthood. It portrays love in all honesty and with all its facets.
It is a giant pack full of friendships, thrillers, science, unique ideas, and more. The novel is written beautifully and in well-knitted form, you will get easily attracted to it even at the beginning of the story.
Interview with Syed Husain Momin Zaidi on Poetry Volume 1 Reflections discussing writing journey and working with Daastan.
Artist: Art of Healing and Power of Love, is written by Zainab Manzoor who is a researcher by profession, however, practices writing and painting as a hobby. This book is a creative amalgamation of both of her hobbies, which educates the readers both visually and linguistically. She can be found playing with words and colors […]
Aysha Khalid is a Turkish poet, she does not believe in the boundaries of language to express herself or her imagination. That’s the reason, she has chosen a Pakistani publishing company ‘Daastan’ to publish her collection of poems.
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]
ہر کتاب کا ایک خانہ ادھورا ہوتا ہے اور اس ادھورے کونے کو قاری اپنے تصور کے رنگوں سے بھر دیتا ہے۔ بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں مگر سننے والا ان ان کہے الفاظ کا بھی مفہوم اخذ کرلیتا ہے اور اسی طرح بہت سی کہانیاں نامکمل ہوتی ہیں مگر دیکھنے والے کی نگاہ اسے مکمل کر دیتی ہے۔یہ کتاب ناتمام قصوں اور کہانیاں کا گھر ہے اور انھیں مکمل کرنے کا اختیار قاری کا تصور محفوظ رکھتا ہے۔