یہاں ہمت شاذ ہی ڈرامائی ہے۔ ان کتابوں میں یہ عموماً ایک خاموش فیصلہ ہے، کسی ذاتی قیمت پر، ایسے شخص کا جس کے پاس خاموش رہنے کا راستہ موجود تھا۔
“جب تک آپا دکھتی رہیں وہ بھی گاڑی کی کھڑکی میں منہ رکھ کر بیٹھا رہا، پھر ڈرائیور کے کہنے پر منہ اندر کر کے کھڑکی بند کرلی۔”

“ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو ریاستی انتخابات کے ذریعے نہیں چنا گیا بلکہ دہلی میں بیٹھ کر ان کا انتخاب کیا گیا ہے، انتخابات کا ڈرامہ صرف دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے رچایا گیا ہے۔”

“میرال کے والد استنبول کے ایک اچھے اسٹیک ہولڈرز میں سے ایک تھے.وہ اُسکی بینڈ میمبر کی دوست تھی اور اُسکی کی ینیورسٹی سے آرکیٹیکٹ کررہی تھی.”

“شنایہ آنکھیں موندے سونے کی کوشش کر رہی تھی، ڈرائیور گاڑی چلانے میں مصروف تھا اور رخسار خالی آنکھوں سے اب بھی آسمان کو دیکھے جا رہی تھی۔”

“"کوئی بتا ئے گاکیسے؟" نجف نے سوالیہ انداز میں سب کی طرف دیکھا مگر اِس مرتبہ کسی کی جواب دینے کی ہمت ہی نہ ہوئی مباداً غلط نکلا توسُبکی ہو گی۔”

“پانچ سال پہلے ِاسی نیم کے پیڑ کے نیچے شانی نے مودی موچی کو اللہ کے انتقام سے ڈرایا تھا اور آج وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کے انتقام کو دیکھ رہا تھا۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Based on Wings of Brotherhood by Wg Cdr (Retd) Badrul Hassan Khan, this gripping account reveals the unseen side of the 1965 War, the fear, discipline, and brotherhood that defined the Pakistan Air Force.
Faiza Anum shares writing journey and her inspiration behind “Of Leaves and Longing,” a poetry anthology on trees and nature.
Interview with Syed Husain Momin Zaidi on Poetry Volume 1 Reflections discussing writing journey and working with Daastan.
Explore Ishq Ilham Hai, a spritual love poetry, book launch events & highlights, featuring inspiring session and many recpected guests
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
ناصر خان نے اس کتاب میں عمدہ اشعار بھی قلم بند کیے ہیں۔ ناصر خان کے اشعار میں تعلیم کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے
ہر کتاب کا ایک خانہ ادھورا ہوتا ہے اور اس ادھورے کونے کو قاری اپنے تصور کے رنگوں سے بھر دیتا ہے۔ بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں مگر سننے والا ان ان کہے الفاظ کا بھی مفہوم اخذ کرلیتا ہے اور اسی طرح بہت سی کہانیاں نامکمل ہوتی ہیں مگر دیکھنے والے کی نگاہ اسے مکمل کر دیتی ہے۔یہ کتاب ناتمام قصوں اور کہانیاں کا گھر ہے اور انھیں مکمل کرنے کا اختیار قاری کا تصور محفوظ رکھتا ہے۔
Daastan, founded on the very notion of being able to tell your stories by putting one's word out there in the world as a whole, becoming a part of this universe; materializes its principles through the journey of thousands of authors we have published. One such journey is that of Mahnoor Kareem, a teenager from Rawalpindi who grew up aspiring to be an exceptional author and chose to become one of them. From finishing a book in a single day to becoming the author of one, she is a treasured Daastan-published author. In an interview, she revealed that her father used to write short stories for so
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔