یہاں ہمت شاذ ہی ڈرامائی ہے۔ ان کتابوں میں یہ عموماً ایک خاموش فیصلہ ہے، کسی ذاتی قیمت پر، ایسے شخص کا جس کے پاس خاموش رہنے کا راستہ موجود تھا۔
“ایئر پورٹ روانگی کا وقت ہو چلا تھا، سو وقت ضائع کیے بغیر سامنے موجود ٹیکسی ڈرائیورز سے ایئرپورٹ ڈراپ کی درخواست کی۔”

“اِس طرح شاعری انسانی احساس، تجربے، مشاہدے، خواب، خوف، خواہش اور خیال کو یادداشت میں محفوظ کرنے کا ایک بہتر طریقہ بن گئی۔”

“مبادہ ہمارا رب ناراض ہو جائے اور اس لیے بھی کہ اللہ کے ہاں عزت والا وہ ہے جو اس کی ذات سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔”

“اس میں اور دوسری طرف بلال میں کیا مقابلہ تھا؟ بلال بلا شبہ مہذب لڑکا تھا لیکن اسکے طور موڈرن دور کے نا تھے۔”

“اس رات کے بعد کچھ دن تک گاؤں میں خوف اور اداسی کی چادر تنی رہی لیکن جب پھر سے کوئی ایسی ناگہانی نہ ہوئی تو سب کچھ اپنے معمول کے مطابق ہونے لگا تھا۔”

“پورا گھر ڈرا سہما ایک دوسرے کو ایسے تک رہا تھا جیسے ابھی کوئی اس ننھی سی جان کو جسے ماں کے تن سے جدا ہوئے چند گھنٹے ہی ہو ئے تھے اپنا گناہ کہہ کر قبول کر لے گا۔”

“چلو اب کام شروع کرو اور یاد رکھو اتحاد میں بڑی طاقت ہے ...اور تم سارے ہی میرے لیے بہترین بچے ہو ،چاہے کم نمبر لاؤ یا زیادہ ...”

“شنایہ کے چہرے پر کچھ بیزاری آئی لیکن اُس نے رخسار اور ڈرائیور کی بات پر کوئی کان نا دھرے اور بد ستور اپنے موبائل میں مصروف رہی۔”

“" "دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے،مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیجئے۔”

“پیش لفظ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی ادارے یا ناشر نے تصوراتی صنفِ ادب میں ملکی سطح پر مقابلہ منعقد کرنے کی سعی نہیں کی۔”

“حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ ہمارے لیڈرز یہاں اتنے مشہور ہیں کے ايک عام شہری بھی ان کے ناموں سے واقف ہے۔”

“اگر کسی بات کا خوف یا اندیشہ لاحق ہے توفرار کی بجائے اس کازیادہ سے زیادہ وقت کے لئے سامنا کریں تاوقتیکہ ان جذبات کی ساری توانائی خرچ ہوجائے اور آپ پرسکون ہو جائیں۔”

“میری شادی پر اس کا بنایا ہوا ایک ایمبرائڈری والا فریم بھی جو مجھے تحفے میں ملا تھا، آج تک میرے گھر کے لاؤنج کی دیوار پر آویزاں ہے۔”

“اس میں اتنی جرات تھی ہی نہیں کہ یہ بتا پاتی کہ اس نے کال کیوں کی وہ کون سا وہم تھا یاڈر تھا جس نے ان کے دل و دماغ کو گھیر رکھا تھا۔”

“متین اپنے علاقے کے نوجوانوں کا لیڈر تھا اور جس جوش سے وہ مہم چلا رہا تھا سب کو لگتا تھا کہ یہ پاگل ہوگۓ ہیں۔”

Our authors, in their own words and in the press.
LAHORE: The launching ceremony of a book titled "From Partition to Pioneer”, "focusing on the life and services of...
In this interview, Bisma Jatoi, a CSS officer and writer, shares her passion for writing and her experience publishing with Daastan.
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے
Nidal Hammad’s The Last Minute, a football novel and story of passion, pressure, and perseverance published by Daastan
An insightful interview with Aqleem Fatimah on Ishq Ilhaam Hai, discussing love, her writing inspiration, and her journey with daastan.
Discover the journey of Naveed Ahmad, an educator and poet . His debut book, Bay Nateeja, published by Daastan, explores deep human emotions.
Based on Wings of Brotherhood by Wg Cdr (Retd) Badrul Hassan Khan, this gripping account reveals the unseen side of the 1965 War, the fear, discipline, and brotherhood that defined the Pakistan Air Force.
Aysha Khalid is a Turkish poet, she does not believe in the boundaries of language to express herself or her imagination. That’s the reason, she has chosen a Pakistani publishing company ‘Daastan’ to publish her collection of poems.