آمنہ خاموشی سے آپی کو سنے جا رہی تھی، جھنجھلاہٹ ختم ہو گئ تھی، سوالوں کا سمندر پر سکون تھا۔ — Huma Hasan, عشق کا مذہب Copy Share WhatsApp
by Huma Hasan
Religious · 15 pages
“انکو شادی سے پہلے نہیں پتا تھا کہ ڈاکٹر سے شادی کریں گے تو وہ گھر تو نا بیٹھے گی؟ جس نوکری کی اجازت کا احسان جتا رہے ہیں اسی کی وجہ سے بچے ٹاپ کے سکول میں پڑھتے ہیں۔”
“دروازہ خاموشی سے بند کرتے ہوے مسکرائیں اور سوچا "عاشق کو تنہائی میں تنگ نہیں کرنا چاہیئے"۔”
“"جی کروں گی آج بات مسسز نبیل کا بھی دو بار فون آ چکا ہے انہیں بھی یقین نہیں آ رہا کہ انکار بھی ممکن تھا ،کہہ رہیں تھیں شاید کوی غلط فہمی ہوئی ہے"،آمنہ نے جواب دیا۔”
“آج پوتے کے چہرے پر پھیلے سکون کو دیکھنے کے لیے ان کی بےچین نگائیں بار بار گیٹ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔”
“اس کے دل و دماغ میں موجزن کوئی عجب سی خوشی و خرسندی اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے صاف عیاں تھی۔”
“مدرسے جانے کے فیصلے نے اس پر کوئی اثر نہ ڈالا اور وہ خوشی خوشی مدرسے جانے کے لیے راضی ہو گیا۔”
“اماں کا بس ایک ہی بھائی تھا مگر گھر کے بکھیڑوں میں الجھی اماں خوشی غمی کے موقع پر ہی اس سے ملتی تھی اور ادھر سے بھی ایسی کوئی چاہ نہ تھی ۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.