ملکائیں کسی پہ منحصر نہیں ہوتیں، ان کا جدھر جدھر دل چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے وہ جاتی ہیں جو دل کرتا ہے کرتی ہیں۔ — Tehreem Arshad, Safar Mei Hamsafar Copy Share WhatsApp
by Tehreem Arshad
Contemporary Fiction · 700 pages
“"واؤ کیا میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں ؟ کیا میں واقعی پاکستان میں ہوں ؟" جیسے ہی جہاز لینڈ ہوا ایک دم پورے جہاز میں آواز گونجی۔”
“" "دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے،مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیجئے۔”
“زندگی تو ہر کسی کے پاس ہوتی ہے لیکن اگر اس زندگی میں عزت نہیں تو اس زندگی سے موت اچھی ہے۔”
“اب میرا ضمیر مردہ نہیں ہے وادی کے لوگوں کا دکھ اپنی جان پہ محسوس ہوتا ہے۔”
“لوگ کچرا صرف کچرا دان میں پھینکتے ہیں اور اگر کوڑادان نہ ہو تو اپنا کچرا وہ جیب میں رکھتے ہیں۔”
“مسلماں کو وفا سے حاصلِ ایماں بھی کہتے ہیں مگر غیرت نہ جانے کیا ہوئی اہلِ قیادت کی وطن کو لوٹتے بھی ہیں،، وطن کو ماں بھی کہتے ہیں ۔۔”
“بہت سے لوگ اس حویلی کو فوّارے والی حویلی کے نام سے یاد کرنے لگے تھے ۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.