مگر میں نے اس سے یہ پوچھنا ہر گز مناسب نہ سمجھا کہ آخر وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ — Zindan زندان, Nagufta/ناگفتہ Copy Share WhatsApp
by Zindan زندان
Contemporary Fiction · 64 pages
“انہی چہروں پر مشتمل 'ناگفتہ' افسانوں اور شاعری کا ايک ایسا مجموعہ ہے جو انسان کے اس چھپے چہرے کو مختلف حالات اور واقعات میں ظاہر کرتا ہے۔”
“'' اس کے بعد دونوں کی ہلکی سی ہنسی سنائی دی اور ساتھ ہی ایک بار پھر سیٹھ کی آوا زسنائی دی ''تم اس خوبصورت سفید ساڑھی میں انتہائی دلکش اور حسین لگ رہی ہو۔”
“جس میں دھوکا، وفا، غداری، احسان فراموشی، بھروسہ، قربانی اور بے لوث جذبہ جيسی انسانی خصوصیات شامل ہیں۔”
زندان اردو زبان کے افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصل نام عادل محمود ہے۔ ان کی پیدائش اور پرورش پاکستان میں ہوئی، لیکن وہ 2002 سے یورپ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے برطانیہ سے گریجویشن کیا۔ ان کی پہلی کتاب نا گفت…
“نجمہ اور سالار احمد کے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ آئے دن گھر میں ایسے ہی ہنگامے کرتا اور شیری کو گھر سے نکالنے کا تقاضا کرتا۔”
“با شعور اور با ضمیر قومیں اپنے علم و ہنر اور جوشِ کردار سے دنیا میں نام پیدا کرتی ہیں۔”
“قومی بیانیے کو اسکے تاریخی پس منظر میں سمجھے بغیر نہ تو ایک متبادل بیانیہ ترتیب دینا ممکن ہے اور نہ ہی ایک متبادل نظام کی نقش گری کی جاسکتی ہے۔”
“یقینا الہامِ عشق کا سلسلہ رکا نہیں مگر اشعار کی آمد کا سلسلہ رک گیا ہے یا یوں کہیں کہ روک دیا گیا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.