اسے ڈر تھا کے ایسے اس کی اور اسکی بیٹی کی بہت بدنامی گی اور پھر شازیہ کی زندگی ایک مذاق بن کر رہ جایے گی. — Faseehullah Irshad, آغاز زیست Copy Share WhatsApp
by Faseehullah Irshad
Tragedy · 15 pages
“"مسز عمیر "سکینہ رات مجھے اندازہ ہوا کی تمہاری بیٹی یقیناًکسی مشکل وقت سے گزری ہے۔”
“اس حقیقت سے آشنا ہوتے ہوۓ کے ہم آپکو اس کے بدلے میں کچھ نہ دے سکیں گيں؟"مسز عمیر" خدا نے میری کوکھ کو خالی رکھ کر بھی مجھے ایک ماں کا دل دیا ہے.”
“آشیانہ کا ایک ہی مقصد تھا کے جہاں بھی کوئی کسی بچے کے ساتھ ظلم ہوا ہے اور انصاف ملنا مشکل ہے تو اسکے گھر والے اسے اپنے ساتھ آشیانہ لے آیں.”
I am faseeh; a 24 year old student of chartered accountancy. I have been reading urdu literature since childhood and I love reading urdu afsana, novel, poetry. Ashfaq Ahmad and Bano Qudsia are my f…
“اس کی یہ خواہش کہ اپنی ماں کو آرام دہ اور سکون بھری زندگی دیتا، اب حسرت بن کر دل میں کانٹے کی طرح چبھتی تھی۔”
“مگر مجھے پتا تھا کہ سفر کافی لمبا اور بوریت سے بھرا ہوتا ہے، اور ایک نئے ملک میں جا کر وہاں کے رہن سہن کے مطابق زندگی کو ڈھالنا بھی کافی مشکل کام ہے۔”
“زندگی کے پہلے دس سال شخصیت سازی کے مراحل میں بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔”
“ڈارلنگ، کہہ دو کہ تم میرا ساتھ دو گی اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میرے لیے زندگی بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.