فرشتے آتے، اس کا بستر لگاتے، نہلاتے دھلاتے، نوالے بنا بنا کر کھانا کھلاتے اور اس کی خدمت سے خوشی پاتے۔ — Mubashra Khan, داستان اِک نئی / Daastan Ik Nayi - Fantasy Story Book in Urdu Copy Share WhatsApp
by Mubashra Khan
Fantasy · 45 pages
“اس کے پاس ایسا علم تھا کہ اگر وہ دوستاروں پر قابو پا لیتا تو دنیا کے تمام انسانوں کے ذہنوں کی ڈوریاں اس کے ہاتھوں میں آجاتیں۔”
“تم نے عقل سے کام لیا اور زاروک کو اس کے منتر سے ہی مات دی اور اب کی بار وہ کسی تاریک غار میں قید کردیا گیا ہے۔”
“ایسے میں ایک لمبی، پتلی،جھکی کمر، سفید بالوں والی بڑھیا، جسے لوگ کُٹنی بی کے نام سے یاد کرتے تھے، خاموشی سے سڑکوں پر چلتی پھر رہی تھی۔”
.
“بونا اور لال پری ہر دم خوش رہتے اور زیادہ وقت تہہ خانے میں ہی گزارتے۔”
“آج پوتے کے چہرے پر پھیلے سکون کو دیکھنے کے لیے ان کی بےچین نگائیں بار بار گیٹ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔”
“اگر انکو پتہ لگ جاتا کہ کچھ دیر پہلے وہ انکے مخالف کے بارے میں کتنی خوشی خوشی سے قصیدے پڑھ رہے تھے تو وہ کیا سوچتے!”
“ٹھنڈی ہواؤں اور گہرے کالے بادلوں کے ساتھ وقفے وقفے کی بارش نے نہ صرف موسم خوشگوار کر دیا بلکہ ہر چیز کا مزہ دوبالا کر دیا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.