ایسے میں ایک لمبی، پتلی،جھکی کمر، سفید بالوں والی بڑھیا، جسے لوگ کُٹنی بی کے نام سے یاد کرتے تھے، خاموشی سے سڑکوں پر چلتی پھر رہی تھی۔ — Mubashra Khan, داستان اِک نئی / Daastan Ik Nayi - Fantasy Story Book in Urdu Copy Share WhatsApp
by Mubashra Khan
Fantasy · 45 pages
“مجھے لگا موت کا گھوڑا بڑی تیزی سے میری طرف دوڑتا چلا آرہا ہے۔”
“تم نے عقل سے کام لیا اور زاروک کو اس کے منتر سے ہی مات دی اور اب کی بار وہ کسی تاریک غار میں قید کردیا گیا ہے۔”
“اس کے پاس ایسا علم تھا کہ اگر وہ دوستاروں پر قابو پا لیتا تو دنیا کے تمام انسانوں کے ذہنوں کی ڈوریاں اس کے ہاتھوں میں آجاتیں۔”
.
“قومی بیانیے کو اسکے تاریخی پس منظر میں سمجھے بغیر نہ تو ایک متبادل بیانیہ ترتیب دینا ممکن ہے اور نہ ہی ایک متبادل نظام کی نقش گری کی جاسکتی ہے۔”
“آج پِھر شاہ زیب کو وقت کی لہروں میں بہہ جانے والی گم گشتہ قربانیوں کی داستان یاد کروا کر اس ملک میں ہی نوکری تلاش کرنے کا درس دیا جا رہا تھا۔”
“بچے ہوئے لوگوں کو ترکی کے علاقے ازمیر سے سمندر میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آگے جانا ہوتا تھا۔”
“آپ وزیرِ داخلہ ہیں، پولیس فورس کی کشتی کے نا کدا، قانون اور نظم کے آقائے نامدار، میں ایک مظلوم اُردو شاعر ہوں، ایک فریادی بن کر آیا ہوں آپ کو میری فریاد سُننی پڑے گی!”
Enter your account email and we'll send you a reset link.