ایک امید تھی کہ شاید آج مثبت جواب مل جائے، مگر پِھر بھی شاہ زیب کی ناں کو ہاں میں نہیں بدل سکے تھے۔ — Zainab Taqvi, اصل داستان تم ہو / Asal Daastan Tum Hu Copy Share WhatsApp
by Zainab Taqvi
Fiction · 30 pages
“کوئی بہن کھو کر آیا تھا کسی نے اپنی ماں کو اپنی نظروں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا تھا، مگر ہر مرنے والے کی داستان کے ساتھ ایک امید کا نام جڑا تھا۔”
“آج پِھر شاہ زیب کو وقت کی لہروں میں بہہ جانے والی گم گشتہ قربانیوں کی داستان یاد کروا کر اس ملک میں ہی نوکری تلاش کرنے کا درس دیا جا رہا تھا۔”
“اسے وہ بزرگ یاد آئے تھے اور ان کی پاکستان سے بے انتہا محبت یاد آئی تھی۔”
“جدھر دیکھا اسے پایا جہاں پہنچے اُسے دیکھا یونہی اُلجھاتے رہے رات بھر ہم کو وہی سو درآج یادوں نے رُخ بدلا ہے اک محور نیا ڈھونڈا اُسی جانب ہی اُڑ چلے ۔۔”
“لکھنا ان کے لیے محض شوق نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے لوگوں کی زندگی میں کچھ بدلاؤ لانے کا کیونکہ الفاظ ہی جذبات کو آواز دیتےہیں۔”
“کپڑے بدل کے ارحم کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئی تھی، آخر کو تھا تو وہ بھی بچہ ہی نا۔”
“شاید مجھے اس سے محبت ہو چلی تھی، لیکن بھلا ایسے کیسے ہوسکتا تھا؟ میں ایک خیال سے، ایک احساس سے محبت کیسےکرسکتا تھا ؟ میں ایک انسان تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.