جدھر دیکھا اسے پایا جہاں پہنچے اُسے دیکھا یونہی اُلجھاتے رہے رات بھر ہم کو وہی سو درآج یادوں نے رُخ بدلا ہے اک محور نیا ڈھونڈا اُسی جانب ہی اُڑ چلے ۔۔
— Raafye Aziz, Dil Key Afsaany دل کے افسانے
“'محبت میں اگر رقیب آ جائے تو زندگی عذاب ہو جاتی ہے' کا مفہوم اسے آج سمجھ آیا تھا اور وہ حیدر کے اس منصوبے پر اس سے سخت خفا تھی۔”

“نجومی نے یہ پیش گوئی کی کہ جس کا باپ اسے سب سے زیادہ چاہتا ہے، اگر وہ شخص اپنی مرضی سے اس گاؤں کے پرکھوں کے آگے اپنی جان دے دے، تو یہ بیماری ٹوٹ سکتی ہے۔”
