آج صبح پھر جب روزی کمانے کے لے راستہ ناپنے نکلی تو نظر ہوا میں جھولتے پھول پہ پڑی جو اپنا بہترین رنگ اور تازگی لیے پودے کی شاخ کا اکیلا مالک بنا بیٹھا۔
زندگی کے ان چوبیس سالوں میں کب اپنی ذات کی تعمیر کے لیے تحریر کا سہارا لے لیا خود بھی نہیں جانتی۔شاید اُسی دن سے جس دن سے ہوش سنبھال لیا اور بچپن کھو دیا یا یوں کہوں کہ ہوش سنبھالنے کے چکر میں ابھی…