ایسی ہی کیفیت میں وہ دن بھر لوگوں میں رہ كے بھی تنہا رہتا ہے، اور پِھر خود ہی حیرت سے پوچھتا ہے۔ — Saeed ul Hassan, Tawaquf / توقّف - Reflective Poems Book Copy Share WhatsApp
by Saeed ul Hassan
Poetry · 150 pages
“حالیہ سالوں میں، ارشد کے چند گیت(’ہم چرسی بھنگی ہیں‘،’میرے دیس میں ہیں امکان بہت‘، اور، ’سب پیسے کی گیم‘، اور ’میری قوم بڑی جزباتی‘) کافی مقبول ہوئے ہیں۔”
“اِس طرح شاعری انسانی احساس، تجربے، مشاہدے، خواب، خوف، خواہش اور خیال کو یادداشت میں محفوظ کرنے کا ایک بہتر طریقہ بن گئی۔”
“شروع میں تو شعریت تقریباً ہر تخلیقی اظہار میں استعمال کی جاتی رہی، جب نثر اور شاعری ایک دوسرے میں گندھے ہوئے رہے۔”
سعید کا ادب سے لگاؤ بہت پرانا ہے۔ جس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے جن دنوں کامرس، بزنس ایڈمنسٹریشن اور کمپیوٹر سائنسز کو عملی زندگی میں کامیابی کا زینہ سمجھا جاتا رہا تھا، اِنھوں نے معاش…
“نیک برخوردار کے نامزدہ جنگل کے قریب پہنچ ہی گیا تھا کے من میں دن بھر کے واقعات پر ذہنی تبصرہ کرنے لگا- صبح، دوپہر، شام، سب ایک ہی کھچڑی میں مل گئے- 'یہ بھی چھوڑو یار!”
“نکاح کا پتہ ماں باپ اور بہن بھائیوں کو چلا تو سارے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔”
“نہ وہ اپنے ماں باپ کو چھوڑنا چاہتا تھا اور نہ ہی فائزہ کو کیونکہ جو بھی تھا فائزہ اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔”
“ایک بے بس شخص جو تنہائی کی تاڑ میں رہتا ہے ،کہ کہیں سکون مل جائے اور چین کی سانسیں میسر ہوجائیں....اس حالت میں اندھیرے سے بہتر جگہ کیا ہو سکتی ہے!”
Enter your account email and we'll send you a reset link.