اب ایک ہی میری آس ہے یہتجھے گھر جیون سنسار ملےغم تیرے پاس نہ آئیں کبھیتجھے خوشیوں کا سنسار ملےاتنی ہی دعا ہے اب میری!
— Atifa Zia, قصّہ تمام شُد / Qissa Tamam Shud
“دل ہی دل میں اس منظر کی رنگینیاں میرے جسم و جاں کو گد گدا رہی تھیں، جب میں نے اس کی نازک صراحی دار گردن میں اپنے ہاتھوں سے یہ لاکٹ اور چین پہنانی تھی۔”

“حیرت ، خوشی،غیر یقینی اور اسی طرح کے کئی اور جذبات سے اپنی ذات کے لامحدود تقسیم شدہ ذرّات کو کسی نا کسی طرح دوبارہ مجسم کرتے ہوۓ اس کے لبوں سے محض یہی نکل سکا۔”
