اِنہی باتوں کی بُھول بُھلیاں میں وہ بھٹک رہا تھا کہ آنکھوں سے ایک موتی چھلک کر رخسار پر گرنے کے بعد ہتھیلی پر ٹھہر سا گیا. — Suleman Ashiq, میرال Copy Share WhatsApp
by Suleman Ashiq
Tragedy · 5 pages
“زندگی کا تیز بہاؤ اِس قدر اُلجھاتا ہے کہ جیسے وہ کردار ہماری زندگی میں کبھی نہیں تھا. کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں.”
“اتُھمان سےملتے وقت اُسکا دل بے چین تھا مگر میرال کہ چہرے پر سجی مسکراہٹ دیکھ کر وہ خوش تھا.”
“اپنا پراجیکیٹ مکمل کرلینے کے بعد وہ اَنکرہ (Ankara) چلا گیا.میرال اُتھمان کے خیالات اور خواب اکثر دل کے دروازوں پر دستک دیا کرتے تھے مگر وہ انہیں بند رکھنے کی کوشش کرتا تھا.”
My first language was shy. It's only by having been thrust into words and fantasies penned down, that i have learned to cope with my shyness.
“زندگی تو ہر کسی کے پاس ہوتی ہے لیکن اگر اس زندگی میں عزت نہیں تو اس زندگی سے موت اچھی ہے۔”
“میں تو اب تک درد سے آنکھیں میچے اماں کے کندھے سے چپکا رو رہا تھا - ہماری گلی میں تقریباََ سبھی گھر ہمارے قرابت داروں کے تھے۔”
“کیونکہ دونوں تاروں کو ایک ہی وقت میں چھونے کے باعث سرکٹ مکمل ہو جاتا ہے جو کہ پرندوں کی موت کی وجہ بن جاتا ہے۔”
“ایک سچا سجدہ، کچھ پچھتاوے کے آنسو اور دل سے مانگی ہوئی معافی۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.