اسے اطمینان ہوا کہ اس کے اقدام سے اس بے چاری عورت کی زندگی بھی سنور جائے گی وہ اپنے دل کی آواز کو دبانے کے بجائے اس کے مطابق زندگی گزارے گی۔ — Sehrish Mustafa, زِندگی شرط ہے Copy Share WhatsApp
by Sehrish Mustafa
Contemporary Fiction · 25 pages
“''وہ کل تو اتوار کی وجہ سے بنی تھی اور آج اماں نے بنوائی ہے رات میں بہت بھیانک خواب دیکھ لیا تھا اسی لئیے آج خیر نکالا۔”
“ہماری قسمت کے تالے کی چابی ہمارے اندر موجود ثابت قدمی ، ہمت، ذہانت اور اپنے حصے کی ذہنی و تخلیقی صلاحیتوں کا درست استعمال اور صبر ہوتی ہے۔”
“اوہ تو اس دنیا میں اتنی آسانی بھی مہیا ہوسکتی ہے کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہر کام اپنی مرضی سے کرتے ہیں دوسرے انسانوں کی بے عزتی بھی۔”
I love to write.
“جلال نے تانے بانوں کو جوڑنا شروع کیا کہ جہاں عام انسانوں کے لیے جنگل ختم ہوتا تھا، وہاں ایک نئی دنیا آباد ہے۔”
“" وہ مسکرائی- " تو مایوسی کے کھنڈر میں دب کر مرنے سے بہتر نہیں کہ ہم امید کا دیا جلا کر دوسروں کو بھی روشنی فراہم کریں اور خود بھی روشن ماحول میں زندگی گزاریں؟ .”
“بہت سے لوگ مُسافر بن کر آتے ہیں اور پھر دل میں گھر کر جاتے ہیں۔”
“دنیا والے تمھیں غصے کا تیز کہتے ہیں پر میں جانتی ہوں تمھارا دل بہت اچھا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.