تذلیل گوارا کر لینے کے عوض دو وقت کی روکھی سوکھی توان تینوں کو آسانی سے دستیاب ہوجاتی مگر عزت نام کی کوئی چیزان کے آس پاس بھی نہ پھٹکتی ۔ — Asma Hassan, اُفق کے اُس پار Copy Share WhatsApp
by Asma Hassan
Drama · 16 pages
“ماں باپوکی آنکھوں میں ٹھہرے آنسواُسے اپنی بے عزتی سے کہیں زیادہ بیش قیمت محسوس ہوتے ۔”
“جہاں پڑھے لکھے ہونا یا ان پڑھ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ یہاں انصاف کے ترازوکا پلڑا مکھیا جیسے لوگوں کی جھولی میں جُھکتا ہے۔”
“کبھی کبھار بستے میں جھانک کر یوں دیکھتا ،جیسے کوئی اپنی نئی نویلی دلہن کو محبت بھری نگاہوں سے پیار کے سندیسے سناتاہے ۔”
Short Story writer. Favourite Category in writing is "Afsana Nigaari" and "Novel Nigaari"
“زمین جب شعلے اُگلتی ہے تو آسمان کا بال بھی بِیکا نہیں کر پاتی مگر جب آسمان بجلیاں گراتا ہے تو زمین کا سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔”
“’یہاں آکر جیتنا میرے لئے خواب ضرور تھا لیکن ناممکن نہیں، میرا ہر دن ایک نئی امید سے شروع ہوتا ہے۔”
“ایک روز اس نے خواب دیکھا کہ ایک خوبصورت شاہی سواری میں اس کا ولی عہد پوری شان و شوکت کے ساتھ وطن واپس آ رہا ہے۔”
“اس کے لئے پہلے.آپ کو انہیں یقین دلانا ہوگا کہ آپ.انہیں جنتی اور جہنمی کی کیٹگری میں ڈال کر نہیں سوچتی بلکہ.ایک مسلمان کی حیثیت سے سوچتی ہو.”
Enter your account email and we'll send you a reset link.