'ہر بار جب امید سے ہوتیں, تو یقین واثق ہوتا کہ اس بار مراد بر آئے گی۔ — Farah Bhutto, اعتبار کا موسم Copy Share WhatsApp
by Farah Bhutto
Contemporary Fiction · 40 pages
“مگر کالج کے بعد کا سارا وقت وہ کسی گھریلو عورت کی طرح گھر کو سبھالتی'۔”
“میری وجہ سے تمہیں جو تکالیف اٹھانی پڑیں ,تم نے جو اذیتیں سہیں, میں ان سب باتوں کے لئے, دل سے معافی چاہتا ہوں!”
“مروی نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی, چھوٹی بہنوں کو بھی اپنی سمجھ کے مطابق ایک ماں کی طرح دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتی رہتی۔”
Im fiction writer & poetess.
“اوہ تو اس دنیا میں اتنی آسانی بھی مہیا ہوسکتی ہے کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہر کام اپنی مرضی سے کرتے ہیں دوسرے انسانوں کی بے عزتی بھی۔”
“ہم ہمیں یہ یقین ہے اگر نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں تو یہ بہت آگے جا سکتے ہیں اور یہ حقیقت حال بھی ہے۔”
“اللہ اور قرآن کے لیے ہمیں خود کو بدلنا ہوتا ہے وہ ہمارے لیے نہیں بدلتے ہم ان کے لیے بدلتے ہیں۔”
“ہم نےمقامی ہنر پر یقین رکھتے ہوئے اس جذبے کا دامن تھاما اور سب کی امیدوں سے بیشتر اس مہم کو سرانجام دیا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.