جس کی وجہ سے آج، ان کے گزر جانے کے بعد بھی لوگ انھیں عزت سے یاد کرتے ہیں۔ — Khurram Sheikh Ali, پہلی کوشش - Pehli Koshish- Urdu Poetry Book on Reality of Life Copy Share WhatsApp
by Khurram Sheikh Ali
Poetry · 112 pages
“پہلے سکول کالج پھر یونیورسٹی میں معاشرے کو سمجھنے کا سفر شروع کیا، اور وہ اب تک جاری ہے۔”
“میری بیداری تک تیرا ساتھ اچھا ہےمجھے نیند میں رہنے دو، سب اچھا ہےزندگی تکمیل پذیر بس تیری آغوش میںخوف و فکر نہیں خرؔم!”
“لوگ کچرا صرف کچرا دان میں پھینکتے ہیں اور اگر کوڑادان نہ ہو تو اپنا کچرا وہ جیب میں رکھتے ہیں۔”
میرا نام خرمؔ علی شیخ ہے۔ میں ۱۹۷۵ء میں ناروے کے شہر اوسلو میں پیدا ہوا۔ میرے والد بہتر مستقبل کی غرض سے۱۹۷۱ءمیں ناروے تشریف لائے۔ ابتدائی تعلیم میں نے St. Paul school کراچی پاکستان سے حاصل کی۔ بعد…
“باہمی رفاقت و اشتراک عمل سے بطور انعام خوشیاں بھی ملتی ہیں اور پھر یہ خوشیاں صرف ایک گھر تک ہی محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشرے پر ان کے اثرات پڑتے ہیں۔”
“عہدِ رفتہ کے سماجی انصاف کی یہی ساخت ہے، پیمانِ چاہت کی یہی شناخت ہے۔”
“مسلماں کو وفا سے حاصلِ ایماں بھی کہتے ہیں مگر غیرت نہ جانے کیا ہوئی اہلِ قیادت کی وطن کو لوٹتے بھی ہیں،، وطن کو ماں بھی کہتے ہیں ۔۔”
“اب کچھ لوگ جو قرآن کا علم رکھتے ہیں وہ تو یہ بات سمجھ جاتے ہیں لیکن جنھوں نے بس قرآن کو پڑھا ہوتا ہے انھیں سمجھانا نا ممکن سا ہو جاتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.