"یہ تم رکھ لو مجھے اب اس کی ضرورت نہیں رہی" مانگنے والی نے خوشی سے وہ پازیب پکڑی اور دعا دیتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔ — Fouzia Malik, PAZAIB / پازیب- Friendship-Based Urdu Novel Copy Share WhatsApp
by Fouzia Malik
Contemporary Fiction · 5 pages
“ایک بے حد اچھی اور بہت پیاری دوست کی طرف سے محبت کی یہ چھوٹی سی نشانی پا کر جو خوشی ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔”
“اِرم اپنے خاوند کے ساتھ جا چکی تھی اور ماں باپ اپنے رشتہ داروں اور محلے والوں سے بے حد شرمندگی کے مارے ملنے جلنے سے قاصر ہو چکے تھے۔”
“جلد ہی بازار کے شور نے مجھے متوجہ کیا اور میں شاپنگ چھوڑ کر گھر واپس آگئی کہ اب کچھ اور خریدنا میرے لیے ممکن نہ تھا۔”
Born in Rawalpindi. Graduated from Waqar un Nisa College Rawalpindi. Holds double Masters Degrees ie in History and Education. Is married and happy to remain a housewife and take care of her sweet …
“اب ایک ہی میری آس ہے یہتجھے گھر جیون سنسار ملےغم تیرے پاس نہ آئیں کبھیتجھے خوشیوں کا سنسار ملےاتنی ہی دعا ہے اب میری!”
“مدرسے جانے کے فیصلے نے اس پر کوئی اثر نہ ڈالا اور وہ خوشی خوشی مدرسے جانے کے لیے راضی ہو گیا۔”
“اپنے اعتبار سے اوپن، سٹریٹ فارورڈ، شوشل، خوش رہنے، خوش رکھنا چاہنے اور دوست بنانے والا انسان ہوں۔”
“بشریٰ کے جاتے ہی میں سامنے والے بیڈ پر متوجہ ہوئی وہاں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی دو گھنٹے میں ہی انہیں یہاں سے چلے جانا تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.