متین نے اس سے پہلے آج تک کبھی اپنی شعوری زندگی میں لوگوں کو اس قدر جذباتی اور پرجوش نہیں دیکھا تھا۔ — Musab Umair, نفرت / Nafrat Copy Share WhatsApp
by Musab Umair
Contemporary Fiction · 30 pages
“متین اپنے علاقے کے نوجوانوں کا لیڈر تھا اور جس جوش سے وہ مہم چلا رہا تھا سب کو لگتا تھا کہ یہ پاگل ہوگئے ہیں۔”
“اگر انھیں پتہ لگ جاتا کہ کچھ دیر پہلے وہ ان کے مخالف کے بارے میں کتنی خوشی خوشی سے قصیدے پڑھ رہے تھے تو وہ کیا سوچتے!”
“بات تکرار میں بدل گئی اور تو تو میں میں عروج پرپہنچی ہی تھی کہ اچانک اس کے باقی ساتھی فرحان سمیت ادھر پہنچ گئے کہ اتنی دیر کیوں لگ گئی۔”
“تعلیم میرے لیے محض ڈگری کا نام نہیں تھی — یہ روشنی تھی، وہ چراغ جس سے میں دوسروں کے لیے روشنی پیدا کرنا چاہتا تھا۔”
“با شعور اور با ضمیر قومیں اپنے علم و ہنر اور جوشِ کردار سے دنیا میں نام پیدا کرتی ہیں۔”
“ایک وہ انسان بہت خوش قسمت ہے جس کی غیر موجودگی میں لوگ اسکی عزت کریں اور دوسرا وہ جس کے جانے کے بعد اسکی یاد میں تنہائی میں آنسو بہائے جائیں اور سوچا جائے کہ اتنی جلدی۔۔”
“انسان کی سب سے قیمتی چیز وقت ہے، جس نے اپنے وقت کو کامیابی سے استعمال کیا وہ اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ گیا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.