"شامیر اگر میں اس گھر کے بارے میں کوئی فیصلہ آپ سے بغیر پوچھے لے لوں، تو؟" اس نے ایک لمحے کے لیے شامیر سے نظریں ملائیں اور پھر چرا لیں۔ — Rimsha Qazi, دستِ سائبان Copy Share WhatsApp
by Rimsha Qazi
Contemporary Fiction · 24 pages
“اس کو اس طرح دل چیرنے والے انداز میں روتا دیکھ کر تقویٰ کی برسوں سے دبی مامتا جاگ گئی اور اس نے فوراً اس بچے کو گلے سے لگا لیا۔”
“آج اسے احساس ہوا تھا کہ دنیا میں رہنے کے لۓ پیسہ اور کسی کی سرپرستی کتنی ضروری ہے۔”
“ارحم اس کو اپنی گزری زندگی کی باتیں بتاتا اور وہ جو ایک عرصے سے بچوں کی آواز کو ترسی ہوئی تھی، بہت دلچسپی سے اس کی باتیں سنتی۔”
A medical student and a wanna-be writer who finds solace in reading and writing. Creating art with words is my way to escape the reality.
“بچے ہوئے لوگوں کو ترکی کے علاقے ازمیر سے سمندر میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آگے جانا ہوتا تھا۔”
“چند دہشتگردوں کی وجہ سے یہ ملک چھوڑ دیں؟ میرے لوگ ہزار اختلافات کے بعد بھی مشکل وقت میں متحد ہوتی ہے۔”
“دونوں ملکوں کی فوجوں میں سے کسی کی نظر میں آئے تو گولیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔”
“متین نے اس سے پہلے آج تک کبھی اپنی شعوری زندگی میں لوگوں کو اس قدر جذباتی اور پرجوش نہیں دیکھا تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.