ارحم اس کو اپنی گزری زندگی کی باتیں بتاتا اور وہ جو ایک عرصے سے بچوں کی آواز کو ترسی ہوئی تھی، بہت دلچسپی سے اس کی باتیں سنتی۔ — Rimsha Qazi, دستِ سائبان Copy Share WhatsApp
by Rimsha Qazi
Contemporary Fiction · 24 pages
“آج اسے احساس ہوا تھا کہ دنیا میں رہنے کے لۓ پیسہ اور کسی کی سرپرستی کتنی ضروری ہے۔”
“اس کو اس طرح دل چیرنے والے انداز میں روتا دیکھ کر تقویٰ کی برسوں سے دبی مامتا جاگ گئی اور اس نے فوراً اس بچے کو گلے سے لگا لیا۔”
“"شامیر اگر میں اس گھر کے بارے میں کوئی فیصلہ آپ سے بغیر پوچھے لے لوں، تو؟" اس نے ایک لمحے کے لیے شامیر سے نظریں ملائیں اور پھر چرا لیں۔”
A medical student and a wanna-be writer who finds solace in reading and writing. Creating art with words is my way to escape the reality.
“با شعور اور با ضمیر قومیں اپنے علم و ہنر اور جوشِ کردار سے دنیا میں نام پیدا کرتی ہیں۔”
“مشکل وقتوں میں وہ ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے رہے—چاہے وہ ذاتی زندگی کا مسئلہ ہو، تعلیم سے متعلق ہو یا کوئی اور چیلنج۔”
“کیا میں بھی الله اور اس کے رسول ﷺ سے ایسی سچی محبت کا دعویٰ کرسکتی ہوں؟ میری تو ساری دنیا ہی جھوٹ پر مبنی ہے۔”
“ہر انسان کی زندگی ایک رسک(risk) پر ہوتی ہے تو کیوں ہم کینسر کے مریض جینا چھوڑ دیتے ہیں؟ کیوں ہم یہ نہیں سمجھتے کہ موت تو آنی ہی آنی ہے.”
Enter your account email and we'll send you a reset link.