آج اسے احساس ہوا تھا کہ دنیا میں رہنے کے لۓ پیسہ اور کسی کی سرپرستی کتنی ضروری ہے۔ — Rimsha Qazi, دستِ سائبان Copy Share WhatsApp
by Rimsha Qazi
Contemporary Fiction · 24 pages
“کپڑے بدل کے ارحم کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئی تھی، آخر کو تھا تو وہ بھی بچہ ہی نا۔”
“"شامیر اگر میں اس گھر کے بارے میں کوئی فیصلہ آپ سے بغیر پوچھے لے لوں، تو؟" اس نے ایک لمحے کے لیے شامیر سے نظریں ملائیں اور پھر چرا لیں۔”
“ارحم اس کو اپنی گزری زندگی کی باتیں بتاتا اور وہ جو ایک عرصے سے بچوں کی آواز کو ترسی ہوئی تھی، بہت دلچسپی سے اس کی باتیں سنتی۔”
A medical student and a wanna-be writer who finds solace in reading and writing. Creating art with words is my way to escape the reality.
“انہیں زندگی کا حسن متاثر کرتا ہے اور اسی کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنا ، انسانی نفسیات کو جانچ کر لکھنا انہیں ذاتی طور پر پسند ہے۔”
“بہت سے لوگ مُسافر بن کر آتے ہیں اور پھر دل میں گھر کر جاتے ہیں۔”
“’میں دنیا کو بدلنے کا عزم رکھتا ہوں سر!مجھے یقین ہے وہ دن دور نہیں جب آپ کو اور میرے والدین کو مجھ پر فخر ہوگا۔”
“اسے اطمینان ہوا کہ اس کے اقدام سے اس بے چاری عورت کی زندگی بھی سنور جائے گی وہ اپنے دل کی آواز کو دبانے کے بجائے اس کے مطابق زندگی گزارے گی۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.